صوبہ بلوچستان میں ماہ رمضان المبارک میں دفتری اوقات کار کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: بلوچستان کی صوبائی حکومت نے ماہ رمضان کے دوران دفتری اوقات کا اعلان کر دیا۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اعلامیہ کے مطابق رمضان میں سرکاری دفاتر صبح 9 بجے کھلیں گے، ہفتے میں 5 روزکام کرنے والے دفاتر پیر تا جمعرات صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کھلے رہیں گے۔اِسی طرح جمعہ کے روز 5روزکام کرنے والے دفاتر دوپہر 1 بجے بند ہوں گے، ہفتے میں 6روزکام کرنے والے دفاتر پیر تا جمعرات اور ہفتہ صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کھلے رہیں گے۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ جمعہ کے روز 6 روزکام کرنے والے دفاتر دوپہر 12 بجے تک کھلے رہیں گے، رمضان کے بعد معمول کے اوقات بحال کر دیے جائیں گے۔
محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اعلامیہ میں تمام سرکاری اداروں کو فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرنے والے دفاتر
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔