بھارتی سرپرستی میں خوارج کے حملے ناکام، 12 دہشتگرد ہلاک، 11 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق، بھارتی پراکسی خوارج نے 16 فروری 2026 کو ایک چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی، جسے سیکیورٹی فورسز کے مستعد اور فوری ردعمل نے ناکام بنا دیا۔ بہادر جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت سے فرار ہونے والے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا اور 12 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: گزشتہ 12 ماہ میں 700 سے زائد دہشتگرد ہلاک ہوئے، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی
حملے کے دوران دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں انفراسٹرکچر شدید نقصان پہنچا اور 11 بہادر جوان شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ قریبی رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، ایک کمسن بچی شہید اور خواتین و بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہوئے۔
علاقے میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے مزید خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رکھی جائے گی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: گزشتہ 2 روز میں 70 سے زائد دہشتگرد ہلاک کیے گئے، معاون وزیراعلیٰ شاہد رند
آئی ایس پی آر نے کہا کہ جوانوں اور شہریوں کی قربانیاں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی خوارج کے حملے ناکام، دہشتگرد ہلاک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی سرپرستی خوارج کے حملے ناکام دہشتگرد ہلاک دہشتگرد ہلاک
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔