راشد خان کا تاریخی سنگِ میل: ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 700 وکٹیں لینے والے پہلے بولر
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغانستان کے عالمی شہرت یافتہ اسپنر راشد خان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک اور شاندار سنگِ میل اپنے نام کر لیا، جہاں وہ اس فارمیٹ میں 700 وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے بولر بن گئے۔
یہ تاریخی لمحہ گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کے خلاف کھیلے گئے میچ کے دوران اس وقت رقم ہوا جب افغانستان کے مایہ ناز اسپنر راشد خان نے ایک اور اہم وکٹ حاصل کر کے اپنا نام کرکٹ کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھوا لیا۔
راشد خان کی اس شاندار کامیابی نے انہیں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے عظیم ترین بولرز کی فہرست میں سرفہرست مقام دلوا دیا ہے، اس سے قبل یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے تجربہ کار آل راؤنڈر ڈیوین براوو کے پاس تھا، جنہوں نے 631 وکٹیں حاصل کر رکھی تھیں۔
تاہم راشد خان نے فروری 2025 میں انہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے سبقت حاصل کر لی تھی۔ وکٹوں کی اس دوڑ میں تیسری پوزیشن بھی ویسٹ انڈیز کے شیو نارائن کے نام ہے، جو اب تک 613 شکار کر چکے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی راشد خان کی حکمرانی برقرار ہے، جہاں وہ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر کے طور پر بدستور سرفہرست ہیں۔ افغان اسپنر اب تک 191 وکٹیں اپنے نام کر چکے ہیں جبکہ اس فہرست میں نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی 164 وکٹوں کے ساتھ دوسرے اور کیوی اسپنر اش سودھی 162 وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز دہلی کے ارن جیٹلی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 28ویں گروپ میچ میں افغانستان نے متحدہ عرب امارات کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی افغانستان نے جاری ٹورنامنٹ میں اپنی پہلی فتح حاصل کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔