ملتان، الیکشن پریس کلب میں پروفیشنل جرنلسٹس گروپ نے جنرل سیکرٹری سمیت اہم نشستوں پر میدان مار لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
صدارت کی نشست پر جرنلسٹ گروپ کے شکیل انجم، نائب صدر کی نشست پر پروفیشنل جرنلسٹس گروپ کے حافظ سرفراز علی انصاری اور جرنلسٹ گروپ کے خالد چودھری، جنرل سیکرٹری کی نشست پر پروفیشنل جرنلسٹس گروپ کے مظہر خان، فنانس سیکرٹری کی نشست پر پروفیشنل جرنلسٹس گروپ کے روف مان کامیاب۔ اسلام ٹائمز۔ ملتان پریس کلب کے انتخابات 2026 میں بڑا اپ سیٹ، پروفیشنل جرنلسٹس گروپ نے جنرل سیکرٹری سمیت اہم نشستوں پر میدان مار لیا۔ تفصیل کے مطابق ملتان پریس کلب کے انتخابات میں پروفیشنل جرنلسٹس گروپ نے کانٹے دار مقابلے کے بعد جنرل سیکرٹری کی نشست پر کامیابی حاصل کی، پروفیشنل جرنلسٹس گروپ کے مظہر خان نے 305 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مدمقابل جمشید رضوانی 295 ووٹ حاصل کر پائے۔ فنانس سیکرٹری کی نشست پر پروفیشنل جرنلسٹس گروپ کے روف مان نے 316 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ مدمقابل فرحان خان ملغانی 267 ووٹ حاصل کر پائے۔
نائب صدر کی نشست پر پروفیشنل جرنلسٹس گروپ کے حافظ سرفراز علی انصاری 295 اور جرنلسٹ گروپ کے خالد چودھری نے 320 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ صدارت کی نشست پر جرنلسٹ گروپ کے شکیل انجم 369 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ پروفیشنل جرنلسٹس گروپ کے اشفاق احمد نے 234 ووٹ حاصل کئے۔ جوائنٹ سیکرٹری کی نشستوں پر نعمان خان بابر نے 325 اور فرقان بھٹی نے 260 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی۔ مجلس عاملہ کی نشستوں پر پروفیشنل جرنلسٹس گروپ کے ناصر زیدی اور وسیم خان بابر کامیاب ٹھہرے۔
اسی طرح جرنلسٹ گروپ کے ندیم حیدر، اعجاز ترین، ممتاز نیازی، رفیق قریشی، دانیال گھمن، مظہر جاوید، نثار اعوان، سلیمان قریشی، نوید شاہ، محبوب ملک، طارق اسماعیل اور تنویر گیلانی نے کامیابی حاصل کی۔ اس موقع پر حامیوں نے بھنگڑے ڈالے اور جیتنے والے امیدواروں پر پھول نچھاور کئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔