پاک چین تجارت خنجراب پارڈر پر 4 ارب ٹیکس چھوٹ گلگت بلتستان کے اضلاع کی بنیاد پر تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
فیڈرل ٹیکسز میں چھوٹ سے ضلع کھرمنگ کو سب سے کم صرف 14 کروڑ 36 لاکھ جبکہ ضلع دیامر کو سب سے زیادہ 78 کروڑ 96 لاکھ روپے کی چھوٹ حاصل ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ پاک چین تجارت خنجراب بارڈر پر 4 ارب روپے کے ٹیکس چھوٹ کو اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا۔ پاک چین تجارت خنجراب بارڈر 4 ارب روپے کے فیڈرل ٹیکسز میں چھوٹ سے ضلع کھرمنگ کو سب سے کم صرف 14 کروڑ 36 لاکھ جبکہ ضلع دیامر کو سب سے زیادہ 78 کروڑ 96 لاکھ روپے کی چھوٹ حاصل ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق خنجراب بارڈر سے ہونے والی پاک چین تجارت پر گلگت بلتستان کو 4 ارب روپے فیڈرل ٹیکسز میں استثنیٰ حاصل ہو گا۔ 4 ارب روپے کو گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں آبادی کے حساب سے تقسیم کیا جائے گا۔ آبادی کے لحاظ سے ضلع گلگت کو 18.
دوسری جانب پاک چین تجارت سے سب سے زیادہ وابستہ ضلع نگر کو 5.11 فیصد آبادی کے ساتھ 20 کروڑ 44 لاکھ روپے کا فائدہ حاصل کرے گا۔ ضلع سکردو 16.32 فیصد آبادی کے حساب سے 65 کروڑ 28 لاکھ روپے 6.53 فیصد کے ساتھ ضلع استور 26 کروڑ 12 لاکھ روپے، ضلع غذر 46 کروڑ 84 لاکھ روپے بلحاظ 11.71 فیصد آبادی ضلع گانچھے 9.23 فیصد آبادی کے حساب سے 36 کروڑ 92 ہزار اور ضلع شگر 4.95 فیصد آبادی کے حساب سے 19 کروڑ 80 لاکھ روپے چھوٹ کے مستحق ہونگے۔ گلگت بلتستان میں آبادی کے حساب سے سب سے بڑا ضلع دیامر 19.74 فیصد کے ساتھ 78 کروڑ 96 لاکھ اور ضلع کھرمنگ سب سے کم آبادی 3.59 فیصد کے حساب سے صرف 14 کروڑ 36 لاکھ روپے فیڈرل ٹیکسز سے استثنیٰ حاصل کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا بادی کے حساب سے فیصد ا بادی کے پاک چین تجارت گلگت بلتستان فیڈرل ٹیکسز کروڑ 96 لاکھ لاکھ روپے ارب روپے کو سب سے حاصل ہو فیصد کے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔