Daily Mumtaz:
2026-06-02@20:39:21 GMT

محکمہ صحت کے ذیلی اداروں میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

محکمہ صحت کے ذیلی اداروں میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزارت صحت کے ذیلی اداروں میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہواہے، پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ پمز میں قائداعظم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج منصوبے میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ پولی کلینک اسپتال میں بھی کروڑوں روپے کی ادویات اور طبی سامان خلاف ضابطہ خریدا گیا۔

معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت اجلاس میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ لاہور سے متعلق آڈٹ اعتراض سامنے آیا۔ بتایا گیا کہ انتظامیہ کی جانب سے ایک سو پچاسی ملین کی خلاف ضابطہ سرمایہ کاری کی گئی۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ اس حوالے سے مکمل رولز بنا رہے ہیں ۔ کنوینر کمیٹی نے کہا کہ اب رولز بنانے کیوں یاد آئے؟ پہلے کیوں نہیں بنائے گئے۔ ایسے کتنے ادارے ہیں جن کے ابھی رولز نہیں ہیں؟ کمیٹی نے معاملے پر وزارت صحت سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پمز میں قائداعظم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج منصوبے میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ صرف پچیس فیصد کام مکمل ہونے کے باوجود ٹھیکیدار کو مکمل ادائیگی کر دی گئی۔اس وجہ سے قومی خزانے کو آٹھ کروڑ باسٹھ لاکھ روپے سے زائد نقصان ہوا۔ کیس تاحال زیر التوا ہے۔ پمز میں لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر غیر فعال ہونے سے پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی سرکاری رقم ضائع ہوئی۔ ۔ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی میں پولی کلینک اسپتال میں اکیس کروڑ سینتالیس لاکھ روپے کی ادویات ریپیٹ آرڈر پر خریدنے کا انکشاف کیا گیا۔سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ نہ دینے سے تین کروڑ سات لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ اور پمز حکام کو ایک ماہ میں معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کروڑوں روپے کی میں کروڑوں

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا