محکمہ صحت کے ذیلی اداروں میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزارت صحت کے ذیلی اداروں میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہواہے، پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ پمز میں قائداعظم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج منصوبے میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ پولی کلینک اسپتال میں بھی کروڑوں روپے کی ادویات اور طبی سامان خلاف ضابطہ خریدا گیا۔
معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت اجلاس میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ لاہور سے متعلق آڈٹ اعتراض سامنے آیا۔ بتایا گیا کہ انتظامیہ کی جانب سے ایک سو پچاسی ملین کی خلاف ضابطہ سرمایہ کاری کی گئی۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ اس حوالے سے مکمل رولز بنا رہے ہیں ۔ کنوینر کمیٹی نے کہا کہ اب رولز بنانے کیوں یاد آئے؟ پہلے کیوں نہیں بنائے گئے۔ ایسے کتنے ادارے ہیں جن کے ابھی رولز نہیں ہیں؟ کمیٹی نے معاملے پر وزارت صحت سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پمز میں قائداعظم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج منصوبے میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ صرف پچیس فیصد کام مکمل ہونے کے باوجود ٹھیکیدار کو مکمل ادائیگی کر دی گئی۔اس وجہ سے قومی خزانے کو آٹھ کروڑ باسٹھ لاکھ روپے سے زائد نقصان ہوا۔ کیس تاحال زیر التوا ہے۔ پمز میں لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر غیر فعال ہونے سے پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی سرکاری رقم ضائع ہوئی۔ ۔ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی میں پولی کلینک اسپتال میں اکیس کروڑ سینتالیس لاکھ روپے کی ادویات ریپیٹ آرڈر پر خریدنے کا انکشاف کیا گیا۔سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ نہ دینے سے تین کروڑ سات لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ اور پمز حکام کو ایک ماہ میں معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کروڑوں روپے کی میں کروڑوں
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔