اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کرسچیئن سٹاکر کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر ویانا پہنچ گئے۔ ائرپورٹ پہنچنے پر حکام نے پرتپاک استقبال کیا۔ آسٹرین فوج کے دستے نے وزیراعظم کو سلامی پیش کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اسحاق ڈار‘ عطا تارڑ‘ طارق فاطمی بھی آسٹریا گئے ہیں۔ شہباز شریف اور آسٹرین چانسلر دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے مشترکہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ شہباز شریف معروف کاروباری افراد سے ملاقاتیں اور بزنس فورم سے خطاب بھی  کریں گے۔ ان کی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈی جی سے ملاقات بھی شیڈول میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آسٹریا کے دورے میں میزبان ملک کے ساتھ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ، ثقافت اور عالمی سفارت کاری کے شہر ویانا میں پہنچ گئے ہیں جہاں پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے چانسلر کرسچن سٹاکر کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ساتھ بھی بات چیت کا خواہاں ہوں۔ اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کی قیادت کے ساتھ پرامن جوہری توانائی، انسداد منشیات اور جرائم پر قابو پانے، پائیدار صنعتی ترقی اور مشترکہ پیش رفت میں اپنے تعاون کو گہرا کرنے کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہوں۔ قبل ازیں  وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ کا گہرائی سے جائزہ لینے کے لیے آزاد ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ ان شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں پاکستان بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں پیچھے ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام ماضی کی روایت سے ہٹ کر ہے، جب بدعنوانی سے متعلق بین الاقوامی جائزوں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ وزیراعظم کا ارادہ ہے کہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) 2025ء میں نشاندہی کی گئی خامیوں کو صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے ذریعے دور کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق بدعنوانی ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے متحدہ قومی حکمت عملی درکار ہے، اور وزیراعظم ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر ایک جامع پالیسی ردعمل تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سی پی آئی 2025ء میں پاکستان کی کارکردگی عالمی سطح پر ملے جلے جائزوں کی عکاس ہے۔ پاکستان نے 100 میں سے 28 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر رہا، جبکہ 2024ء میں اس کا سکور 27 اور درجہ بندی 180 ممالک میں 135 تھی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان کا سکور آٹھ آزاد بین الاقوامی ذرائع کے ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیا، جو سرکاری شعبے میں بدعنوانی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک ذریعے، ویریٹیز آف ڈیموکریسی پروجیکٹ، نے پاکستان کو گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر قرار دیا اور اس کا سکور 14 سے بڑھا کر 19 کر دیا، جو سیاسی اور ادارہ جاتی شعبوں میں بہتری کے تاثر کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم یہ بہتری نفاذِ قانون اور قانون کی بالادستی سے متعلق اشاریوں میں نظر نہیں آئی۔ دو اہم اداروں نے پاکستان کی درجہ بندی کم کی۔ ورلڈ اکنامک فورم کے ایگزیکٹو اوپینین سروے نے پاکستان کا سکور 33 سے کم کر کے 32 کر دیا، جس سے رشوت، غیر رسمی ادائیگیوں اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق کاروباری حلقوں کے منفی تاثرات کی عکاسی ہوتی ہے۔ اسی طرح ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کا سکور 26 سے کم ہو کر 25 رہ گیا، جو احتساب اور اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف کارروائی میں مسلسل کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وزیراعظم

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے ساتھ کا سکور کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ