وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر ویانا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-01-4
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) وزیرِ اعظم شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کرسچیئن اسٹاکر کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر ویانا روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف آسٹرین چانسلر سے وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے اور دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے معروف کاروباری شخصیات کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم ویانا میں اقوامِ متحدہ کے تحت “پائیدار ترقی اور عالمی امن” کے موضوع پر منعقدہ تقریب اور آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کریں گے، جبکہ انٹریشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل سے بھی ان کی ملاقات متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔