پبلک اکاؤنٹس ذیلی کمیٹی اجلاس: پولی کلینک اسپتال میں ادویات کی خریداری میں بےضابطگیوں کا آڈٹ اعتراض
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
فائل فوٹو۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں پولی کلینک اسپتال میں ادویات کی خریداری میں بےضابطگیوں کا آڈٹ اعتراض سامنے آیا۔
پولی کلینک کی طرف سے 21 کروڑ 47 لاکھ روپے کی ادویات ریپیٹ آرڈر پر خریدنے کا انکشاف پوا۔
آڈٹ حکام کے مطابق سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ نہ دینے سے 3 کروڑ 7 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ ادویات خریداری میں پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کی خلاف ورزی ہوئی۔
آڈٹ حکام نے قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 15 فیصد حد سے زائد ریپیٹ آرڈرز جاری کیے گئے۔ 08-2007 میں ادویات کی خریداری پر 21 کروڑ سے زائد اخراجات ہوئے۔ کم بولی دہندہ کو نظر انداز کر کے دیگر فرموں سے خریداری کی گئی۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسسز کے حکام نے کہا کہ ہم نے بار بار وزارت خزانہ کو خط لکھے لیکن جواب نہیں ملا۔
وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ پہلے کے خطوط کا مجھے معلوم نہیں، ان کو پتہ کرنا پڑے گا۔ ذیلی کمیٹی نے وزارت خزانہ اور پمز حکام کو ایک ماہ میں معاملہ سیٹل کرنے کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذیلی کمیٹی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔