کورنگی:رینجرز ،سی ٹی ڈی کی کارروائی،فتنہ الہندوستان کے 3 مبینہ سہولت کار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسامہ ملک: کراچی میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام،کورنگی میں رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی،فتنہ الہندوستان کے 3 مبینہ سہولت کار گرفتار کر لئے گئے ۔
تفصیلات کے مطابق سندھ رینجرزاور سی ٹی ڈی پولیس نے کورنگی چکرا گوٹھ میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 3 انتہائی مطلوب سہولت کار دہشتگرد گرفتار کرلیے۔
رینجرز حکام نے بتایا ہے کہ گرفتار ملزمان میں یاسرعرفات، خدا بخش اور زاہد حسین عرف بارکزئی شامل ہیں جبکہ ملزمان کے قبضے سے 5 کلو بارودی مواد، 10 میٹر پرائما کارڈ،3 عدد ڈیٹونیٹر،1 کلو بال بیرنگ برآمد کر لی گئی ہے۔
ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم ؛وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس صلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر
حکام کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے انتہا پسندی پرمبنی لٹریچر کے 250 عدد بکس اور لیپ ٹاپ بھی برآمد کر لیے گئے ہیں، ملزمان مختلف کالجزاور یونیورسٹیز کے طلباء کی کالعدم تنظیم میں شمولیت کیلئے ذہن سازی کرتے تھے اور ملزمان انتہا پسندی پر مبنی لٹریچر کی فراہمی میں بھی ملوث ہیں۔
علاوہ ازیں، رینجرز حکام نے بتایا ہے کہ گرفتار ملزمان نے کراچی کے حساس مقامات پر دہشتگردی کی کارروائی کیلئے بارودی مواد اپنے خفیہ ٹھکانے پر چھپایا ہوا تھا تاہم اب گرفتارملزمان کو مزید قانونی کارروائی کیلئے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔
پاک، بھارت میچ سے قبل اوپنر ابھیشیک شرما کا اہم ویڈیو بیان آگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک