کراچی، دو مختلف مقامات پر پولیس مقابلے، 3 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس کے مبینہ مقابلوں کے دوران تین ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق پہلا مبینہ مقابلہ لیاری کے علاقے مرزا آدم خان روڈ پر پیش آیا، جہاں کلاکوٹ تھانے کی شاہین فورس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔
چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ملزم کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت 30 سالہ یاسر کے نام سے ہوئی ہے اور اس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
مزید پڑھیںکراچی؛ مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلے، 4 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار
دوسرا مبینہ مقابلہ سپر مارکیٹ تھانے کی حدود میں لیاقت آباد نمبر چار فرنیچر مارکیٹ کے قریب پیش آیا، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔
چھیپا ذرائع کے مطابق زخمی ملزمان کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی ملزمان کی شناخت شمس الدین عرف شاہ رخ اور بلال کے ناموں سے کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی حالت میں گرفتار
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔