19 سالہ نوجوان کو قتل کے بعد لاش کے ٹکڑے کرنے والے 3 سفاک دوست گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
شہدادکوٹ: 19 سالہ نوجوان کے لرزہ خیز قتل کا معمہ حل ہوگیا، مقتول کے 3 دوست کو گرفتار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر کی حدود سے ملنے والی 19 سالہ نوجوان ذوہیب شاہ کی لاش کے کیس میں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے قتل میں ملوث 3 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان مقتول کے دوست ہیں، جو ذوہیب شاہ کو چائے پینے کے بہانے اپنے ساتھ لے گئے اور بے دردی سے قتل کر دیا۔ ملزمان نے واردات کے بعد مقتول کی لاش کے ٹکڑے کیے اور اسے زمین میں چھپا دیا تھا۔ 10 فروری کو علاقہ مکینوں نے لاش کے ٹکڑے دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی، جس پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان کے قتل کا مقدمہ 7 نامزد سمیت 9 ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران گرفتار ملزمان کے قبضے سے آلہ قتل، جس میں 2 کلہاڑیاں اور ایک ڈنڈا شامل ہے، برآمد کر لیا ہے۔ پولیس ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لاش کے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔