data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: ماہرین غذائیت نے کہا ہے کہ چھولے اور چنے انسانی صحت کے لیے نہایت مفید غذاؤں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا باقاعدہ استعمال جسمانی طاقت، ہاضمے اور دل کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، چنے پروٹین، فائبر، آئرن، میگنیشیم اور وٹامن بی سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کے مختلف نظاموں کو متوازن رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چنے خصوصاً ان افراد کے لیے بہترین غذا ہیں جو گوشت کم کھاتے ہیں یا سبزی خور ہیں کیونکہ یہ قدرتی پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ایک کپ اُبلے ہوئے چنوں میں مناسب مقدار میں پروٹین موجود ہوتا ہے جو پٹھوں کی مضبوطی اور جسمانی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی طرح ان میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا اور قبض سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق چنے دل کے امراض سے بچاؤ میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان میں موجود حل پذیر فائبر کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ چنوں میں پوٹاشیم اور میگنیشیم جیسے معدنیات بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ چنے وزن کم کرنے والوں کے لیے بھی بہترین انتخاب ہیں کیونکہ ان میں کیلوریز کم اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، جس سے معدہ دیر تک بھرا رہتا ہے اور بار بار بھوک نہیں لگتی۔ اسی طرح یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مفید سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح اچانک نہیں بڑھتی۔

طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چنے جلد اور بالوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند قرار دیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں زنک اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو جلد کو تروتازہ اور بالوں کو مضبوط بناتے ہیں، چنوں کو اُبال کر، بھگو کر یا بھنے ہوئے اسنیک کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم تلی ہوئی شکل میں زیادہ استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چنوں کو روزمرہ غذا میں مناسب مقدار میں شامل کیا جائے تو یہ قدرتی سپلیمنٹ کا کام کرتے ہیں اور کئی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ متوازن غذا کے اصولوں کے مطابق دالوں اور اناج کے ساتھ چنوں کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے مفید ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہیں کیونکہ ان ہوتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار