چھولے اور چنے صحت کا خزانہ قرار، ماہرین غذائیت نے اہم فوائد بتا دیے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ماہرین غذائیت نے کہا ہے کہ چھولے اور چنے انسانی صحت کے لیے نہایت مفید غذاؤں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا باقاعدہ استعمال جسمانی طاقت، ہاضمے اور دل کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، چنے پروٹین، فائبر، آئرن، میگنیشیم اور وٹامن بی سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کے مختلف نظاموں کو متوازن رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چنے خصوصاً ان افراد کے لیے بہترین غذا ہیں جو گوشت کم کھاتے ہیں یا سبزی خور ہیں کیونکہ یہ قدرتی پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ایک کپ اُبلے ہوئے چنوں میں مناسب مقدار میں پروٹین موجود ہوتا ہے جو پٹھوں کی مضبوطی اور جسمانی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی طرح ان میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا اور قبض سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق چنے دل کے امراض سے بچاؤ میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان میں موجود حل پذیر فائبر کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ چنوں میں پوٹاشیم اور میگنیشیم جیسے معدنیات بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ چنے وزن کم کرنے والوں کے لیے بھی بہترین انتخاب ہیں کیونکہ ان میں کیلوریز کم اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، جس سے معدہ دیر تک بھرا رہتا ہے اور بار بار بھوک نہیں لگتی۔ اسی طرح یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مفید سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح اچانک نہیں بڑھتی۔
طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چنے جلد اور بالوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند قرار دیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں زنک اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو جلد کو تروتازہ اور بالوں کو مضبوط بناتے ہیں، چنوں کو اُبال کر، بھگو کر یا بھنے ہوئے اسنیک کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم تلی ہوئی شکل میں زیادہ استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چنوں کو روزمرہ غذا میں مناسب مقدار میں شامل کیا جائے تو یہ قدرتی سپلیمنٹ کا کام کرتے ہیں اور کئی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ متوازن غذا کے اصولوں کے مطابق دالوں اور اناج کے ساتھ چنوں کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے مفید ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیں کیونکہ ان ہوتے ہیں کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ