Islam Times:
2026-06-02@22:06:23 GMT

واہ جی ایسی حکمرانی اور ایسے عوام مگر کب تک؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

واہ جی ایسی حکمرانی اور ایسے عوام مگر کب تک؟

اسلام ٹائمز: اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم امید کو ووٹ دیتے ہیں نظام کو نہیں، ہم چہرہ بدلتے ہیں اصول نہیں۔ اسی لیے ہر نیا آغاز پرانی کہانی بن جاتا ہے۔ حل کسی ایک الیکشن یا ایک لیڈر میں نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل، اداروں کی بالادستی اور عوامی ترجیحات کی تبدیلی میں ہے۔ جب ووٹ کارکردگی کو ملے گا تو حکمرانی بھی بدلے گی۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا حکمران کون ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی حکمرانی بدلے گی۔ جب تک ہم فرد سے امید باندھتے رہیں گے، نظام نہیں بنے گا اور تب تک انتخابات ہوں گے، حکومتیں بدلیں گی، تقریریں نئی ہوں گی، مگر مسائل وہی رہیں گے اور ہم پھر یہی کہیں گے: واہ جی ایسی حکمرانی اور ایسے عوام۔۔۔ مگر کب تک۔؟ تحریر: محمد حسن جمالی

پاکستان میں حکومت کرنا اب مادی طاقتوروں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، جس کا واضح نمونہ گذشتہ الیکشن میں پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ برای نام الیکشن ضرور ہوا، مگر بھاری اکثریت سے جیتنے والے کو بزور طاقت جیل کی کوٹھری میں بند کروایا اور بری طرح شکست سے دوچار ہونے والے کو مسند اقتدار پر بٹھا دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پوری دنیا میں پاکستان کا الیکشن مذاق بن گیا اور امپورٹڈ حکومت نے پاکستان کا وہ برا حال کر دیا، جس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان میں مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں، بلکہ حکمرانی کے طریقہ کار کا ہے۔ آئین موجود ہے، پارلیمنٹ موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں اور انتخابات بھی ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود ریاست کی سمت واضح دکھائی نہیں دیتی۔ ہر پانچ سال بعد امید جنم لیتی ہے اور چند ماہ بعد مایوسی اسے نگل لیتی ہے۔

یہ کوئی اتفاقی کیفیت نہیں، بلکہ ایک مسلسل دائرہ ہے، جس میں ہم برسوں سے گردش کر رہے ہیں۔ ہم ووٹ دیتے ہیں، قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور نتائج سنتے ہیں، لیکن فیصلہ اکثر بیلٹ بکس سے بڑا ہوتا ہے۔ کبھی اکثریت حکومت نہیں بنا پاتی، کبھی حکومت مدت پوری نہیں کر پاتی اور کبھی حکومت بنتے ہی غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت آغاز ہی سے کمزور ہوتی ہے اور کمزور حکومت مضبوط فیصلے نہیں کرسکتی۔ چنانچہ اقتدار سنبھالتے ہی اصلاحات کے بجائے بقا کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ دنیا میں حکومت کا پہلا سال فیصلوں کا سال سمجھا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں پہلا سال تحفظ کا سال ہوتا ہے۔ مشکل معاشی فیصلے مؤخر کیے جاتے ہیں، سبسڈیاں برقرار رکھی جاتی ہیں اور مسائل اگلی حکومت کے لیے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ چند برس بعد نئی حکومت آتی ہے اور وہیں سے آغاز کرتی ہے، جہاں پہلی نے چھوڑا تھا۔ یعنی بحران سے۔ اسی لیے ہر حکومت یہ جملہ دہراتی ہے کہ اسے تباہ معیشت ملی۔

پاکستان کا معاشی بحران کسی ایک جماعت یا فرد کی ناکامی نہیں، بلکہ پالیسی کے عدم تسلسل کی ناکامی ہے۔ ہر وزیر نئی پالیسی لاتا ہے اور اگلا وزیر اسے غلط قرار دے دیتا ہے۔ صنعت کار غیر یقینی کا شکار رہتا ہے، سرمایہ کار انتظار کرتا رہتا ہے، نوجوان بیرون ملک جانے کا سوچتا ہے اور حکومت قرض لیتی رہتی ہے۔ ہم ترقی قرض سے شروع کرتے ہیں اور بحران ادائیگی پر ختم کرتے ہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد کی کمی ہے، کیونکہ معیشت اعداد و شمار سے زیادہ تسلسل پر چلتی ہے، جبکہ تسلسل ہماری سیاست کی سب سے بڑی قربانی ہے۔ جمہوری معاشروں میں ادارے مرکزی ہوتے ہیں، مگر ہمارے ہاں شخصیات مرکزی ہیں۔ پارٹی لیڈر سے شروع ہوتی ہے اور لیڈر پر ختم ہو جاتی ہے۔ کارکن کو منشور یاد نہیں ہوتا، مگر نعرہ یاد ہوتا ہے، ووٹ تقریر کو ملتا ہے بجٹ کو نہیں۔ اسی لیے حکومت بدلتے ہی افسر، پالیسی اور ترجیحات سب بدل جاتے ہیں اور ریاست ہر بار نئے سرے سے آغاز کرتی ہے، مگر کبھی پختگی تک نہیں پہنچتی۔

اپوزیشن کا کردار بھی نگرانی کے بجائے مزاحمت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پارلیمنٹ کم چلتی ہے اور بیانات زیادہ چلتے ہیں۔ قانون سازی پیچھے رہ جاتی ہے اور سیاسی کشمکش آگے بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً سیاست چلتی رہتی ہے اور ریاست رک جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوال صرف حکمرانوں کا نہیں بلکہ عوام کے رویئے کا بھی ہے۔ہم ووٹ دیتے وقت تعلیم، صحت اور ٹیکس پالیسی نہیں دیکھتے بلکہ تقریر اور تاثر دیکھتے ہیں۔ ہم اصولوں کے بجائے شخصیات سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور پھر پانچ سال بعد کارکردگی نہ ہونے پر حیران ہوتے ہیں۔ جمہوریت باشعور شہری مانگتی ہے، مگر ہم مداح پیدا کرتے ہیں۔ ریاست صرف آئین سے نہیں بلکہ معاشرتی رویوں سے مضبوط ہوتی ہے۔ جب سفارش کو حق اور قانون شکنی کو ہوشیاری سمجھا جائے تو انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ ادارے مستقل مزاجی سے مضبوط ہوتے ہیں، مگر جب ہر حکومت انہیں موافق بنانے کی کوشش کرے تو اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور اعتماد ختم ہو جائے تو ریاست صرف نقشہ رہ جاتی ہے۔

پاکستان کا نوجوان اسی غیر یقینی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرتا ہے، مگر معیار بدل جاتا ہے، ہنر سیکھتا ہے، مگر منڈی بدل جاتی ہے اور کاروبار شروع کرتا ہے، مگر پالیسی بدل جاتی ہے۔ بالآخر وہ یا ملک چھوڑ دیتا ہے یا امید چھوڑ دیتا ہے اور قوم اس وقت کمزور ہوتی ہے، جب نوجوان محنت سے پہلے نتیجے پر یقین کھو دے۔ یہ بحث صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ گلی تک آتی ہے۔ ریاست کا اصل چہرہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ تھا نہ، اسپتال اور اسکول ہوتا ہے۔ شہری کو حکومت ٹی وی پر نہیں ملتی بلکہ اس وقت ملتی ہے، جب وہ بجلی کا بل دیکھتا ہے، اسپتال کی قطار میں کھڑا ہوتا ہے یا اس کا بچہ استاد کے بغیر کلاس میں بیٹھا ہوتا ہے۔ یہیں فیصلہ ہوتا ہے کہ ریاست کامیاب ہے یا نہیں۔

ہم اکثر پوچھتے ہیں حکومت ہمیں کیا دے رہی ہے، مگر کم ہی پوچھتے ہیں ہم حکومت کو کیا دے رہے ہیں۔ ریاست صرف مطالبوں سے نہیں بلکہ شراکت سے چلتی ہے۔ ٹیکس صرف پیسہ نہیں بلکہ اعتماد ہوتا ہے۔ جب شہری ٹیکس نہیں دیتا تو حکومت قرض لیتی ہے اور جب حکومت قرض لیتی ہے تو خود مختاری کم ہوتی ہے۔ یوں معاشی کمزوری سیاسی کمزوری بن جاتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ کوئی قوم سیاست سے نہیں بلکہ تعلیم سے بنتی ہے۔ پارلیمنٹ کا معیار درس گاہوں سے پیدا ہوتا ہے۔ جب نصاب سوچ پیدا نہ کرے، بلکہ صرف امتحان پاس کرائے تو شہری نہیں بنتے بلکہ صرف ڈگری ہولڈر بنتے ہیں اور ڈگری ہولڈر ووٹر تو بن جاتا ہے مگر فیصلہ ساز نہیں بنتا۔ اسی لیے سیاسی بحث جذباتی رہتی ہے، فکری نہیں بنتی۔

ریاست کا پہیہ سیاست نہیں بلکہ انتظامیہ چلاتی ہے۔ سیاست سمت دیتی ہے اور بیوروکریسی رفتار دیتی ہے، مگر جب ہر تبدیلی پر پورا انتظامی ڈھانچہ بدل جائے تو تجربہ ضائع ہو جاتا ہے۔ نیا افسر فائل سمجھتا ہے اور مدت ختم ہو جاتی ہے، پھر اگلا آتا ہے اور وہی عمل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ یوں ملک کبھی تجربے کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھتا۔ سیاست معاشرے سے الگ نہیں ہوتی۔ جس معاشرے میں جھوٹ قابل قبول ہو، وہاں وعدہ معتبر نہیں رہتا اور جہاں وعدہ معتبر نہ رہے، وہاں منشور بے معنی ہو جاتا ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں اصول چھوڑ دیتے ہیں اور سیاست سے اصول مانگتے ہیں؛ یہی تضاد تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم امید کو ووٹ دیتے ہیں نظام کو نہیں، ہم چہرہ بدلتے ہیں اصول نہیں۔ اسی لیے ہر نیا آغاز پرانی کہانی بن جاتا ہے۔ حل کسی ایک الیکشن یا ایک لیڈر میں نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل، اداروں کی بالادستی اور عوامی ترجیحات کی تبدیلی میں ہے۔ جب ووٹ کارکردگی کو ملے گا تو حکمرانی بھی بدلے گی۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا حکمران کون ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی حکمرانی بدلے گی۔ جب تک ہم فرد سے امید باندھتے رہیں گے، نظام نہیں بنے گا اور تب تک انتخابات ہوں گے، حکومتیں بدلیں گی، تقریریں نئی ہوں گی، مگر مسائل وہی رہیں گے اور ہم پھر یہی کہیں گے: واہ جی ایسی حکمرانی اور ایسے عوام۔۔۔ مگر کب تک۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کا ہو جاتی ہے ہو جاتا ہے نہیں بلکہ جاتے ہیں دیتے ہیں ہوتے ہیں ووٹ دیتے یہ ہے کہ لیتی ہے اسی لیے بدلے گی سوال یہ ہیں اور ہوتی ہے ہوتا ہے رہیں گے ختم ہو ہے اور

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان