Islam Times:
2026-07-24@06:27:17 GMT

واہ جی ایسی حکمرانی اور ایسے عوام مگر کب تک؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

واہ جی ایسی حکمرانی اور ایسے عوام مگر کب تک؟

اسلام ٹائمز: اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم امید کو ووٹ دیتے ہیں نظام کو نہیں، ہم چہرہ بدلتے ہیں اصول نہیں۔ اسی لیے ہر نیا آغاز پرانی کہانی بن جاتا ہے۔ حل کسی ایک الیکشن یا ایک لیڈر میں نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل، اداروں کی بالادستی اور عوامی ترجیحات کی تبدیلی میں ہے۔ جب ووٹ کارکردگی کو ملے گا تو حکمرانی بھی بدلے گی۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا حکمران کون ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی حکمرانی بدلے گی۔ جب تک ہم فرد سے امید باندھتے رہیں گے، نظام نہیں بنے گا اور تب تک انتخابات ہوں گے، حکومتیں بدلیں گی، تقریریں نئی ہوں گی، مگر مسائل وہی رہیں گے اور ہم پھر یہی کہیں گے: واہ جی ایسی حکمرانی اور ایسے عوام۔۔۔ مگر کب تک۔؟ تحریر: محمد حسن جمالی

پاکستان میں حکومت کرنا اب مادی طاقتوروں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، جس کا واضح نمونہ گذشتہ الیکشن میں پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ برای نام الیکشن ضرور ہوا، مگر بھاری اکثریت سے جیتنے والے کو بزور طاقت جیل کی کوٹھری میں بند کروایا اور بری طرح شکست سے دوچار ہونے والے کو مسند اقتدار پر بٹھا دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پوری دنیا میں پاکستان کا الیکشن مذاق بن گیا اور امپورٹڈ حکومت نے پاکستان کا وہ برا حال کر دیا، جس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان میں مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں، بلکہ حکمرانی کے طریقہ کار کا ہے۔ آئین موجود ہے، پارلیمنٹ موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں اور انتخابات بھی ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود ریاست کی سمت واضح دکھائی نہیں دیتی۔ ہر پانچ سال بعد امید جنم لیتی ہے اور چند ماہ بعد مایوسی اسے نگل لیتی ہے۔

یہ کوئی اتفاقی کیفیت نہیں، بلکہ ایک مسلسل دائرہ ہے، جس میں ہم برسوں سے گردش کر رہے ہیں۔ ہم ووٹ دیتے ہیں، قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور نتائج سنتے ہیں، لیکن فیصلہ اکثر بیلٹ بکس سے بڑا ہوتا ہے۔ کبھی اکثریت حکومت نہیں بنا پاتی، کبھی حکومت مدت پوری نہیں کر پاتی اور کبھی حکومت بنتے ہی غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت آغاز ہی سے کمزور ہوتی ہے اور کمزور حکومت مضبوط فیصلے نہیں کرسکتی۔ چنانچہ اقتدار سنبھالتے ہی اصلاحات کے بجائے بقا کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ دنیا میں حکومت کا پہلا سال فیصلوں کا سال سمجھا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں پہلا سال تحفظ کا سال ہوتا ہے۔ مشکل معاشی فیصلے مؤخر کیے جاتے ہیں، سبسڈیاں برقرار رکھی جاتی ہیں اور مسائل اگلی حکومت کے لیے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ چند برس بعد نئی حکومت آتی ہے اور وہیں سے آغاز کرتی ہے، جہاں پہلی نے چھوڑا تھا۔ یعنی بحران سے۔ اسی لیے ہر حکومت یہ جملہ دہراتی ہے کہ اسے تباہ معیشت ملی۔

پاکستان کا معاشی بحران کسی ایک جماعت یا فرد کی ناکامی نہیں، بلکہ پالیسی کے عدم تسلسل کی ناکامی ہے۔ ہر وزیر نئی پالیسی لاتا ہے اور اگلا وزیر اسے غلط قرار دے دیتا ہے۔ صنعت کار غیر یقینی کا شکار رہتا ہے، سرمایہ کار انتظار کرتا رہتا ہے، نوجوان بیرون ملک جانے کا سوچتا ہے اور حکومت قرض لیتی رہتی ہے۔ ہم ترقی قرض سے شروع کرتے ہیں اور بحران ادائیگی پر ختم کرتے ہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد کی کمی ہے، کیونکہ معیشت اعداد و شمار سے زیادہ تسلسل پر چلتی ہے، جبکہ تسلسل ہماری سیاست کی سب سے بڑی قربانی ہے۔ جمہوری معاشروں میں ادارے مرکزی ہوتے ہیں، مگر ہمارے ہاں شخصیات مرکزی ہیں۔ پارٹی لیڈر سے شروع ہوتی ہے اور لیڈر پر ختم ہو جاتی ہے۔ کارکن کو منشور یاد نہیں ہوتا، مگر نعرہ یاد ہوتا ہے، ووٹ تقریر کو ملتا ہے بجٹ کو نہیں۔ اسی لیے حکومت بدلتے ہی افسر، پالیسی اور ترجیحات سب بدل جاتے ہیں اور ریاست ہر بار نئے سرے سے آغاز کرتی ہے، مگر کبھی پختگی تک نہیں پہنچتی۔

اپوزیشن کا کردار بھی نگرانی کے بجائے مزاحمت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پارلیمنٹ کم چلتی ہے اور بیانات زیادہ چلتے ہیں۔ قانون سازی پیچھے رہ جاتی ہے اور سیاسی کشمکش آگے بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً سیاست چلتی رہتی ہے اور ریاست رک جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوال صرف حکمرانوں کا نہیں بلکہ عوام کے رویئے کا بھی ہے۔ہم ووٹ دیتے وقت تعلیم، صحت اور ٹیکس پالیسی نہیں دیکھتے بلکہ تقریر اور تاثر دیکھتے ہیں۔ ہم اصولوں کے بجائے شخصیات سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور پھر پانچ سال بعد کارکردگی نہ ہونے پر حیران ہوتے ہیں۔ جمہوریت باشعور شہری مانگتی ہے، مگر ہم مداح پیدا کرتے ہیں۔ ریاست صرف آئین سے نہیں بلکہ معاشرتی رویوں سے مضبوط ہوتی ہے۔ جب سفارش کو حق اور قانون شکنی کو ہوشیاری سمجھا جائے تو انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ ادارے مستقل مزاجی سے مضبوط ہوتے ہیں، مگر جب ہر حکومت انہیں موافق بنانے کی کوشش کرے تو اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور اعتماد ختم ہو جائے تو ریاست صرف نقشہ رہ جاتی ہے۔

پاکستان کا نوجوان اسی غیر یقینی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرتا ہے، مگر معیار بدل جاتا ہے، ہنر سیکھتا ہے، مگر منڈی بدل جاتی ہے اور کاروبار شروع کرتا ہے، مگر پالیسی بدل جاتی ہے۔ بالآخر وہ یا ملک چھوڑ دیتا ہے یا امید چھوڑ دیتا ہے اور قوم اس وقت کمزور ہوتی ہے، جب نوجوان محنت سے پہلے نتیجے پر یقین کھو دے۔ یہ بحث صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ گلی تک آتی ہے۔ ریاست کا اصل چہرہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ تھا نہ، اسپتال اور اسکول ہوتا ہے۔ شہری کو حکومت ٹی وی پر نہیں ملتی بلکہ اس وقت ملتی ہے، جب وہ بجلی کا بل دیکھتا ہے، اسپتال کی قطار میں کھڑا ہوتا ہے یا اس کا بچہ استاد کے بغیر کلاس میں بیٹھا ہوتا ہے۔ یہیں فیصلہ ہوتا ہے کہ ریاست کامیاب ہے یا نہیں۔

ہم اکثر پوچھتے ہیں حکومت ہمیں کیا دے رہی ہے، مگر کم ہی پوچھتے ہیں ہم حکومت کو کیا دے رہے ہیں۔ ریاست صرف مطالبوں سے نہیں بلکہ شراکت سے چلتی ہے۔ ٹیکس صرف پیسہ نہیں بلکہ اعتماد ہوتا ہے۔ جب شہری ٹیکس نہیں دیتا تو حکومت قرض لیتی ہے اور جب حکومت قرض لیتی ہے تو خود مختاری کم ہوتی ہے۔ یوں معاشی کمزوری سیاسی کمزوری بن جاتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ کوئی قوم سیاست سے نہیں بلکہ تعلیم سے بنتی ہے۔ پارلیمنٹ کا معیار درس گاہوں سے پیدا ہوتا ہے۔ جب نصاب سوچ پیدا نہ کرے، بلکہ صرف امتحان پاس کرائے تو شہری نہیں بنتے بلکہ صرف ڈگری ہولڈر بنتے ہیں اور ڈگری ہولڈر ووٹر تو بن جاتا ہے مگر فیصلہ ساز نہیں بنتا۔ اسی لیے سیاسی بحث جذباتی رہتی ہے، فکری نہیں بنتی۔

ریاست کا پہیہ سیاست نہیں بلکہ انتظامیہ چلاتی ہے۔ سیاست سمت دیتی ہے اور بیوروکریسی رفتار دیتی ہے، مگر جب ہر تبدیلی پر پورا انتظامی ڈھانچہ بدل جائے تو تجربہ ضائع ہو جاتا ہے۔ نیا افسر فائل سمجھتا ہے اور مدت ختم ہو جاتی ہے، پھر اگلا آتا ہے اور وہی عمل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ یوں ملک کبھی تجربے کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھتا۔ سیاست معاشرے سے الگ نہیں ہوتی۔ جس معاشرے میں جھوٹ قابل قبول ہو، وہاں وعدہ معتبر نہیں رہتا اور جہاں وعدہ معتبر نہ رہے، وہاں منشور بے معنی ہو جاتا ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں اصول چھوڑ دیتے ہیں اور سیاست سے اصول مانگتے ہیں؛ یہی تضاد تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم امید کو ووٹ دیتے ہیں نظام کو نہیں، ہم چہرہ بدلتے ہیں اصول نہیں۔ اسی لیے ہر نیا آغاز پرانی کہانی بن جاتا ہے۔ حل کسی ایک الیکشن یا ایک لیڈر میں نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل، اداروں کی بالادستی اور عوامی ترجیحات کی تبدیلی میں ہے۔ جب ووٹ کارکردگی کو ملے گا تو حکمرانی بھی بدلے گی۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا حکمران کون ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی حکمرانی بدلے گی۔ جب تک ہم فرد سے امید باندھتے رہیں گے، نظام نہیں بنے گا اور تب تک انتخابات ہوں گے، حکومتیں بدلیں گی، تقریریں نئی ہوں گی، مگر مسائل وہی رہیں گے اور ہم پھر یہی کہیں گے: واہ جی ایسی حکمرانی اور ایسے عوام۔۔۔ مگر کب تک۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کا ہو جاتی ہے ہو جاتا ہے نہیں بلکہ جاتے ہیں دیتے ہیں ہوتے ہیں ووٹ دیتے یہ ہے کہ لیتی ہے اسی لیے بدلے گی سوال یہ ہیں اور ہوتی ہے ہوتا ہے رہیں گے ختم ہو ہے اور

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار