حکم پرعمل کرنےوالے چیئرمین کو ہٹادیاگیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ این ایچ اے حکام پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن افسران کی تعیناتی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، درخواست گزار کی جانب سے وکیل علی نواز کھرل اور این ایچ اے کی جانب سے وکیل سردار تیمور اسلم پیش ہوئے۔
عدالت نے این ایچ اے کو اپنے افسران کی تعیناتی کا پلان حکومت کے سامنے رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے این ایچ اے میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کا ریکارڈ 15 روز میں عدالت میں جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر این ایچ اے حکام پر برہم ہو گئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ستمبر میں ہم نے حکم جاری کیا اس پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا، پسند ناپسند اور اقربا پروری ہوتی جا رہی ہے، من پسند تعیناتیاں ہو رہی ہیں، لوگ منافع دیکھ کر تعیناتیاں اور فیصلے کر رہے ہیں، پہلے سی ڈی اے حکومت کھا گیا اب این ایچ اے وہی کام کر رہا ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہمارے حکم پر عمل درآمد کرنے والے چیئرمین کو ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ عمل درآمد کر رہا تھا، ہمارا حکم اس افسر کو لگانے والوں کو ناگوار گزرا اور اسے ہٹا کر نیا افسر لگا دیا، اس کو جا کر بتا دیں جس نے یہ حرکتیں کی ہیں ہم ایکشن لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اداروں میں ایسے ہی کرپشن بڑھتی ہے، ڈیپارٹمنٹ میں ایسے لوگ ہی کھڑے کر دیے جاتے ہیں جو کام نہیں ہونے دیتے، ایسے ادارے کرپشن کا گھڑ بن چکے ہیں۔
عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ایچ اے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔