اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے انسپکٹر جنرلز آف پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایف آئی آرز، گرفتاری کے میمو، برآمدگی کے میمو، تحقیقاتی رپورٹس، چالان یا پولیس کے کسی بھی دوسرے ریکارڈ میں شکایت کنندہ، ملزمان، متاثرین یا گواہوں کے ناموں کے ساتھ ذات، قبیلہ، برادری، تبدیلیِ مذہب کی حیثیت یا کسی بھی قسم کے درجہ بندی والے یا توہین آمیز الفاظ کا حوالہ نہ دیا جائے۔

جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک فوجداری کیس کی سماعت کے دوران متنبہ کیا کہ اس اصول سے انحراف صرف اس صورت میں جائز ہوگا جہاں تفتیشی افسر، جرم سے براہ راست تعلق رکھنے والی نیک نیتی پر مبنی تفتیشی وجوہات (جنہیں تحریری طور پر ریکارڈ کیا جائے گا)کی بنا پر یہ یقین رکھتا ہو کہ ایسی شناخت سختی سے ضروری ہے۔

جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کے تحریر کردہ 6 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ ہمیں یہ دیکھ کر شدید دکھ ہوا ہے کہ معاشرہ اب بھی اس بنیاد پر یہ طے کرتا ہے کہ ایک انسان احترام کا مستحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ محض اس کے پیشے کی نوعیت سے کیا جاتا ہے، بجائے اس کی فطری عزتِ نفس کے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ انسانی وقار کوئی ایسی رعایت نہیں ہے جو کسی کو بخشی جائے۔  بلکہ یہ ایک ناقابلِ تنسیخ حق ہے جو ہر فرد کو اس کی انسانیت کے ناطے حاصل ہے۔

کہاگیا کہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھنگی، چوڑا، میراثی، جمعدار، ڈوم اور مصلی جیسی اصطلاحات اب محض کسی ذات کی تعریف کے لیے استعمال نہیں ہوتیں بلکہ ان مخصوص ذاتوں کے ارکان کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔

ہمیں ایسے معاشرے کے بارے میں تشویش ہے جو بقا کے لیے صفائی پر انحصار کرتا ہے، لیکن ان لوگوں کی تذلیل کرتا ہے جو اسے ممکن بناتے ہیں۔

جو لوگ معاشرے کی غلاظت صاف کرتے ہیں انہیں 'گندا' کہا جاتا ہے اور جو شہروں کو رہنے کے قابل بناتے ہیں ان کی زندگیوں کو فطرتاً کم احترام کے لائق سمجھا جاتا ہے۔

کہا گیا کہ پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں بھی اس دعوے کو تقویت دیتی ہیں۔ انسانی حقوق  کے عالمگیر اعلامیے (UDHR) کے آرٹیکل 1 اور 7، شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے (ICCPR) کے آرٹیکل 2 اور 26 اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کا بین الاقوامی عہد نامہ (ICESCR) کا آرٹیکل 3  قانون کے سامنے برابری اور مذہب یا سماجی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ کا حکم دیتے ہیں۔ 

عدالت نے کہا کہ کسی بھی ایسی اصطلاح کا استعمال جو نو مسلم کو 'نیا' یا کسی اور طرح سے ممتاز کرے، اس کی نہ تو اسلامی تعلیمات میں اور نہ ہی قانون میں گنجائش ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ