رمضان المبارک میں معدے کے مریضوں کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
رمضان المبارک کے دوران معدے کی سوزش یا پیپٹک السر کے مریضوں کو روزہ رکھتے وقت خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماریاں بیکٹیریا کے انفیکشن، سگریٹ نوشی، درد کش ادویات کے طویل استعمال، زیادہ کھانے اور مرچ مصالحے دار، چکنائی والی یا تیزابی غذاؤں کے زیادہ استعمال سے پیدا ہوسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر سال کینسر کے لاکھوں مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے، عالمی رپورٹ
ان امراض کی عام علامات میں معدے کا درد، سینے کی جلن، پیٹ پھولنا، ڈکار آنا، تیزابیت اور اوپری پیٹ میں جلن یا درد شامل ہیں۔ طویل وقت تک معدہ خالی رہنے سے یہ علامات بڑھ سکتی ہیں، جس سے بعض افراد کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
روزہ رکھنے سے پہلے کن باتوں پر غور کریں؟ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض کی حالت کی شدت کے مطابق ہی روزہ رکھنے کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ سحری چھوڑنا معدے میں تیزابیت بڑھا سکتا ہے، اس لیے سحری ضرور کی جائے، سحری میں چائے اور کیفین والے مشروبات سے پرہیز بہتر ہے کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی اور معدے کی جلن بڑھا سکتے ہیں۔
افطاری کیسے کریں؟روزہ آہستگی سے افطار کرنا معدے کو اچانک تیزابیت سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ کھجور اور پانی سے افطار کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے، ہلکے سوپ یا پھلوں کے ہلکے مشروبات بھی ہاضمے کے لیے مفید ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افطاری میں چنے طاقت بحال رکھنے کا بہترین ذریعہ
افطار میں متوازن غذا استعمال کی جائے جس میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، سبزیاں اور پھل شامل ہوں۔ تلی ہوئی، مرچ مصالحے دار، بہت نمکین یا میٹھی اشیاء سے گریز کیا جائے۔
کن غذاؤں سے پرہیز ضروری؟چکنائی والی، تلی ہوئی اور تیز مرچوں والی غذائیں، کھٹی اشیاء اور ترش پھل جیسے لیموں، مالٹا اور گریپ فروٹ معدے کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پراسیسڈ اور ڈبہ بند غذائیں اور زیادہ چینی والی اشیا بھی تکلیف بڑھا سکتی ہیں۔
سگریٹ نوشی معدے کی سوزش اور السر کی بڑی وجہ ہے، اس لیے رمضان کو سگریٹ چھوڑنے کے موقع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کون سی غذائیں بہتر رہتی ہیں؟کھجور، کیلا اور بادام جیسی غذائیں معدے کے لیے نسبتاً ہلکی ہوتی ہیں اور توانائی بھی فراہم کرتی ہیں، تلی ہوئی اشیا کے بجائے ابلی یا اوون میں بیک کی گئی غذائیں بہتر انتخاب ہیں۔
پانی اور ادویات کی اہمیتافطار سے سونے تک مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو، معدے کی ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق عموماً سحری کے وقت لینا بہتر رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا رمضان 2026 کے لیے پاکستان میں فوڈ باسکٹ پراجیکٹ کا آغاز
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلکی، متوازن اور اعتدال والی غذا، مناسب پانی کا استعمال اور صحیح اوقات میں کھانا، معدے کے مریضوں کو رمضان میں نسبتاً آسانی کے ساتھ روزہ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افطار السر پیپٹک السر رمضان روزہ دار سحری سوزش معدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افطار السر کے مریضوں معدے کی معدے کے کے لیے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔