چترال کی وادی کالاش کے گاؤں شیخاندہ بمبوریت میں 2 روزہ مقامی سرمائی کھیلوں کے میلے کا آغاز ہوگیا ہے۔

لوئر چترال کی ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا یہ میلہ علاقے کی منفرد ثقافتی شناخت اور روایتی کھیلوں کو زندہ رکھنے کی اہم کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کشمیری معاشرے میں روایتی کھیل گتکا کی کیا اہمیت ہے؟

میلے میں نسل در نسل منتقل ہونے والے روایتی کھیل پیش کیے جا رہے ہیں جو آج بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ شائقین نے بزکشی کے سنسنی خیز مقابلوں سے لطف اٹھایا، جبکہ مقامی کھیل ‘ہِم غال’ (برفانی پولو) اور روایتی کُشتی کے مقابلے بھی توجہ کا مرکز رہے۔

قدیم کھیلوں میں مہارت رکھنے والے مقامی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مقامی افراد کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی ہندوکش کی قدیم کھیلوں کی روایت کی جھلک دکھائی۔

ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد عیسیٰ خان نے میڈیا کو بتایا کہ ‘ہمارا بنیادی مقصد نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے، جبکہ اپنی قدیم روایات کو زندہ رکھنا بھی ہماری ترجیح ہے’۔

یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان کے مختلف روایتی کھیلوں میں پولو سرفہرست

انہوں نے کہا کہ ‘ان کھیلوں کے انعقاد سے ہم نہ صرف اپنی تاریخ کو محفوظ بنا رہے ہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دے رہے ہیں اور دنیا کو کالاش قوم کی مہمان نوازی دیکھنے کی دعوت دے رہے ہیں’۔

انتظامیہ کے مطابق میلے سے قبل اسٹیج، تماشائیوں کے بیٹھنے کے انتظامات، سیکیورٹی اور ٹریفک مینجمنٹ کا جامع منصوبہ مکمل کیا گیا تاکہ بڑی تعداد میں آنے والے افراد کو کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔

میلے میں سیاحوں کی آمد سے مقامی گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور دستکاری کی دکانوں سمیت دیگر کاروباروں کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Indigenous sports چترال روایتی کھیل کالاش.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چترال روایتی کھیل کالاش رہے ہیں

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری