روایتی کھیلوں کو زندہ رکھنے کے لیے وادی کالاش میں 2 روزہ میلے کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
چترال کی وادی کالاش کے گاؤں شیخاندہ بمبوریت میں 2 روزہ مقامی سرمائی کھیلوں کے میلے کا آغاز ہوگیا ہے۔
لوئر چترال کی ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا یہ میلہ علاقے کی منفرد ثقافتی شناخت اور روایتی کھیلوں کو زندہ رکھنے کی اہم کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کشمیری معاشرے میں روایتی کھیل گتکا کی کیا اہمیت ہے؟
میلے میں نسل در نسل منتقل ہونے والے روایتی کھیل پیش کیے جا رہے ہیں جو آج بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ شائقین نے بزکشی کے سنسنی خیز مقابلوں سے لطف اٹھایا، جبکہ مقامی کھیل ‘ہِم غال’ (برفانی پولو) اور روایتی کُشتی کے مقابلے بھی توجہ کا مرکز رہے۔
قدیم کھیلوں میں مہارت رکھنے والے مقامی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مقامی افراد کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی ہندوکش کی قدیم کھیلوں کی روایت کی جھلک دکھائی۔
ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد عیسیٰ خان نے میڈیا کو بتایا کہ ‘ہمارا بنیادی مقصد نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے، جبکہ اپنی قدیم روایات کو زندہ رکھنا بھی ہماری ترجیح ہے’۔
یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان کے مختلف روایتی کھیلوں میں پولو سرفہرست
انہوں نے کہا کہ ‘ان کھیلوں کے انعقاد سے ہم نہ صرف اپنی تاریخ کو محفوظ بنا رہے ہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دے رہے ہیں اور دنیا کو کالاش قوم کی مہمان نوازی دیکھنے کی دعوت دے رہے ہیں’۔
انتظامیہ کے مطابق میلے سے قبل اسٹیج، تماشائیوں کے بیٹھنے کے انتظامات، سیکیورٹی اور ٹریفک مینجمنٹ کا جامع منصوبہ مکمل کیا گیا تاکہ بڑی تعداد میں آنے والے افراد کو کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
میلے میں سیاحوں کی آمد سے مقامی گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور دستکاری کی دکانوں سمیت دیگر کاروباروں کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Indigenous sports چترال روایتی کھیل کالاش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چترال روایتی کھیل کالاش رہے ہیں
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم