ذاتی معالج کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے،سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹرسلمان اکرم راجا نے ایک بارپھر ذاتی معالج کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ایک جملہ سننا ہے کہ بانی خود کہیں میری آنکھ اب بہتر ہے بس۔بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگومیں کہا کہ ہم نے کوئی سیاست نہیںکی یہ بات غلط ہے۔ عاصم یوسف بانی کے ذاتی معالج ہیں انکو کیوں اندر نہیں بھیجا جارہا۔ ڈاکٹر عاصم یوسف پہلے بھی 5 مرتبہ بانی کا طبی معائنہ کرچکے ہیں اب کیا مسئلہ ہے۔ سرکاری رپورٹ میں جو بات آئی ہے ہم اسکی توثیق چاہتے ہیں۔بیرسٹر سلمان صفدر نے جو رپورٹ دی ہے اس کے مطابق آنکھ میں مسئلہ ہے۔ سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا بہتری آئی ہے۔ ڈاکٹر عاصم یوسف جب اندر جائینگے وہ آکر ہمیں بتائینگے اصل صورتحال کیا ہے۔ہم سب راستے اختیار کررہے ہیں ہم عدالتوں میں بھی جارہے ہیں۔عدالتوں نے تو خود دروازے بند کیے ہیں۔چیف جسٹس صاحب نے نوٹس لیا اسکے بعد بانی کی بچوں سے بات ہوئی ہے۔ہم چاہتے ہیں یہ معاملہ اب آگے بڑھے ،ذاتی معالج سے ملاقات کرائی جائے۔انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر کی ملاقات بطور فرینڈ آف کورٹ تھی۔ سلمان صفدر نے کہا بانی نے اپنی بائیں آنکھ بند کرکے دیکھا تو بتایا سلمان مجھے آپ کا چہرہ نظر نہیں آیا۔اب اگر علاج کے نتیجے میں کوئی بہتری آئی ہے تو اچھی بات ہے۔ہمارا مطالبہ ہے بانی کے ذاتی معالج کو رسائی دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ذاتی معالج
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔