سلمان اکرم راجہ کا محسن نقوی کے بیان پر ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
سلمان اکرم راجہ---فائل فوٹو
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کوئی سیاست نہیں کی، یہ بات غلط ہے، ہم نے ایک جملہ سننا ہے کہ بانی خود کہیں کہ میری آنکھ اب بہتر ہے بس۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عاصم یوسف بانی کے ذاتی معالج ہیں ان کو اندر کیوں نہیں بھیجا جا رہا، ڈاکٹر عاصم یوسف پہلے بھی 5 مرتبہ طبی معائنہ کر چکے ہیں، اب کیا مسئلہ ہے، سرکاری رپورٹ میں جو بات آئی ہے ہم اس کی توثیق چاہتے ہیں، بیرسٹر سلمان صفدر نےجو رپورٹ دی اس کے مطابق آنکھ میں مسئلہ ہے، سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہتری آئی ہے، ڈاکٹر عاصم یوسف جب اندر جائیں گے وہ بتائیں گے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم سب راستے اختیار کر رہے ہیں ہم عدالتوں میں بھی جا رہے ہیں، چیف جسٹس صاحب نے نوٹس لیا اس کے بعد بانی کی بچوں سے بات ہوئی، ہم چاہتے ہیں یہ معاملہ اب آگے بڑھے ذاتی معالج سے ملاقات کرائی جائے، سلمان صفدر کی ملاقات بطور فرینڈ آف کورٹ تھی، سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی نے بائیں آنکھ بند کر کے دیکھا تو کہا کہ سلمان مجھے آپ کا چہرہ نظر نہیں آیا، اب اگر علاج کے نتیجے میں کوئی بہتری آئی ہے تو اچھی بات ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی کے ذاتی معالج کو رسائی دی جائے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا ٹھیک علاج ہونا اُن کا حق ہے، اس میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں ملاقات کے لیے آئے ہیں باقی ساتھی پارلیمنٹ اور کے پی ہاؤس میں ہیں، آج شام ہم پھر مشاورت کریں گے، ہم نے عدالت میں کوئی انڈر ٹیکنگ نہیں دی تھی، ہم نے کہا تھا کہ جیل کے گیٹ پر ہم بات نہیں کریں گے، ہمیں کیسے اطمینان ہو گا جب تک سرکاری رپورٹ کی توثیق نہیں ہو گی۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ذاتی معالج کو رسائی نہ دینے کا مقصد اس معاملے کو ابہام میں رکھنا ہے، قاسم زمان کا نام آیا تھا وہ خاندان کا فرد ہے، یہ بتایا گیا کہ فیملی یا ذاتی معالج کو رسائی دی جائے، ہم نے ڈاکٹر عامر اعوان، ڈاکٹر مظہر اسحاق کا نام دیا تھا، ہمیں بتایا گیا کہ یہ نام قابلِ قبول نہیں ہیں، ہم نے اس لیے ان ڈاکٹرز کے نام دیے، ان کی اچھی شہرت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم ذاتی معالج کہ بانی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔