روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
محمد آصف
رمضان المبارک اسلامی تقویم کا نواں مہینہ اور روحانی تربیت، تزکیئہ نفس، صبر و تقویٰ اور اجتماعی ہمدردی کا عظیم ترین موسمِ بہار ہے ۔ اس بابرکت مہینے کا استقبال دراصل اپنی زندگی میں ایک نئی روح پھونکنے ، دل کی زمین کو نرم کرنے اور اعمال کی کھیتی کو سنوارنے کا عہد تازہ کرنے کا نام ہے ۔ قرآنِ کریم نے رمضان کو نزولِ قرآن کا مہینہ قرار دیا، اور اسی نسبت سے یہ مہینہ انسان کو ہدایت، شعور اور بصیرت کی طرف بلاتا ہے ۔
استقبالِ رمضان کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ بندہ اس مہینے کی آمد سے پہلے اپنے باطن و ظاہر کا محاسبہ کرے ، گزشتہ کوتاہیوں پر ندامت محسوس کرے اور آئندہ کے لیے اصلاحِ احوال کا پختہ ارادہ کرے ۔ یہ تیاری محض ظاہری انتظامات تک محدود نہ ہو بلکہ دل کی دنیا میں بھی ایک انقلاب برپا کرے ، کیونکہ اصل مقصد بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ نفس کی سرکشی کو قابو میں لا کر تقویٰ کی دولت حاصل کرنا ہے ۔
استقبالِ رمضان کا پہلا تقاضا نیت کی درستگی اور اخلاص کی مضبوطی ہے ۔ انسان جب کسی بڑے مہمان کی آمد پر اپنے گھر کو سجاتا اور سنوارتا ہے تو رمضان تو وہ مہمان ہے جو رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے خزانوں کے ساتھ آتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس مہینے سے پہلے اپنے دل کو کینہ، حسد، بغض اور نفرت جیسی بیماریوں سے پاک کریں۔ آپس کے جھگڑے ختم کریں، رشتوں کو جوڑیں اور معافی مانگنے اور معاف کرنے کاحوصلہ پیدا کریں۔ کیونکہ ایک صاف دل ہی عبادت کا صحیح لطف اٹھا سکتا ہے ۔ اگر دل میں کدورتیں ہوں تو نماز، تلاوت اور ذکر کا اثر کم ہو جاتا ہے ۔ اس لیے رمضان کے استقبال کا حقیقی آغاز دل کی صفائی سے ہوتا ہے ۔
دوسرا اہم پہلو عبادات کی پیشگی تیاری ہے ۔ رمضان میں نمازِ پنجگانہ کے ساتھ تراویح، تہجد، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعا کی کثرت کی جاتی ہے ۔ اگر ہم پہلے سے اپنی عادات کو درست کر لیں، مثلاً نمازوں کی پابندی شروع کر دیں، قرآن کی روزانہ تلاوت کا معمول بنا لیں، تو رمضان میں یہ اعمال آسانی سے جاری رہتے ہیں۔ بعض لوگ رمضان کے پہلے دن جوش و خروش سے عبادت شروع کرتے ہیں مگر چند دن بعد سستی آ جاتی ہے ۔ اس کا سبب تیاری کا فقدان ہے ۔ جس طرح امتحان سے پہلے طالب علم تیاری کرتا ہے ، اسی طرح رمضان بھی روحانی امتحان ہے جس کے لیے پیشگی مشق ضروری ہے ۔ ہمیں اپنے وقت کا نظم بنانا چاہیے تاکہ سحر و افطار کے اوقات ضائع نہ ہوں اور عبادت کے لیے مخصوص وقت مقرر ہو۔ استقبالِ رمضان کا ایک اور اہم پہلو سماجی ذمہ داری کا احساس ہے ۔ یہ مہینہ ہمیں بھوک اور پیاس کے ذریعے غریبوں اور محتاجوں کی حالت کا احساس دلاتا ہے ۔ لہٰذا رمضان سے پہلے ہی ہمیں اپنے مال کا جائزہ لینا چاہیے ، زکوٰة اور صدقات کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور مستحق افراد کی تلاش کرنی چاہیے ۔ اگر ہم رمضان کے آغاز ہی سے ضرورت مندوں کی مدد شروع کر دیں تو معاشرے میں خیر و برکت کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے ۔افطار دسترخوانوں کا اہتمام، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا بھی استقبالِ رمضان کا حصہ ہے ۔ اس مہینے میں صرف اپنی عبادت پر توجہ کافی نہیں بلکہ دوسروں کی آسانی کا سبب بننا بھی مطلوب ہے۔
گھریلو سطح پر بھی رمضان کی تیاری ایک خوبصورت روایت ہے ۔ گھروں کی صفائی، سحر و افطار کے انتظامات اور اہلِ خانہ کے لیے روحانی ماحول کی تشکیل اہم ہے ، مگر اس میں اعتدال ضروری ہے ۔ بدقسمتی سے بعض اوقات رمضان کی تیاری خریداری، پکوانوں اور ظاہری اہتمام تک محدود ہو جاتی ہے ، جبکہ اصل روح پسِ پشت چلی جاتی ہے ۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ رمضان سادگی، قناعت اور ضبطِ نفس کا مہینہ ہے ۔ فضول خرچی، نمود و نمائش اور اسراف اس مہینے کی روح کے خلاف ہیں۔ اگر ہم سادگی اختیار کریں اور بچت کو صدقہ و خیرات میں لگائیں تو یہی حقیقی استقبال ہوگا۔ رمضان المبارک کا استقبال دعا کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے ۔ صحابئہ کرام کا معمول تھا کہ وہ چھ ماہ پہلے رمضان کی دعا کرتے اور چھ ماہ بعد اس کی قبولیت کی دعا مانگتے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کی قدر اہلِ ایمان کے دلوں میں کتنی زیادہ تھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اس بابرکت مہینے تک پہنچنے کی دعا کریں، صحت اور فرصت کی دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے استقامت طلب کریں۔ دعا انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور دل میں امید اور یقین پیدا کرتی ہے کہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا بہترین رمضان ہوگا۔
استقبالِ رمضان کا ایک پہلو علمی و فکری تیاری بھی ہے ۔ ہمیں قرآنِ مجید کے ترجمہ و تفسیر کے مطالعے کا ارادہ کرنا چاہیے ، سیرتِ نبوی ۖ اور اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے ایمان کو مضبوط بنانا چاہیے ۔ رمضان میں قرآن سے تعلق مضبوط کرنا اصل مقصد ہے ، اس لیے اگر ہم پہلے سے کچھ اہداف مقرر کر لیں، مثلاً پورا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنا یا کسی مخصوص سورت کی تفسیر سمجھنا، تو ہمارا
رمضان زیادہ بامعنی بن سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اخلاقی اصلاح، جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے بچنے کا عزم بھی ضروری ہے کیونکہ روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ زبان، آنکھ اور دل کا بھی ہوتا ہے ۔
روحانی اعتبار سے استقبالِ رمضان خود احتسابی کا بہترین موقع ہے ۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ گزشتہ رمضان سے اب تک ہماری زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ کیا ہم نے اپنے گناہوں سے توبہ کی؟ کیا ہم نے اپنے کردار کو بہتر بنایا؟ اگر نہیں، تو آنے والا رمضان ہمارے لیے ایک نیا موقع ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر سال ہمیں یہ مہینہ عطا کر کے گویا ہمیں اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے ۔ اگر ہم اس موقع کو ضائع کر دیں تو یہ ہماری محرومی ہوگی۔ اس لیے عزم و ہمت کے ساتھ اس مہینے کا استقبال کرنا چاہیے تاکہ یہ رمضان ہماری تقدیر بدلنے کا سبب بن جائے ۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رمضان کا استقبال صرف ایک وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل تبدیلی کی بنیاد ہے ۔ اگر ہم اس مہینے میں صبر، تقویٰ، عبادت اور خدمتِ خلق کی عادت ڈال لیں تو یہی عادات سال بھر ہمارے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ رمضان ایک تربیتی کیمپ ہے جہاں انسان کو خود پر قابو پانے ، وقت کی قدر کرنے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے ۔ جو شخص اس مہینے کا صحیح استقبال کرتا ہے ، وہ اس کے اختتام پر ایک بدلا ہوا، سنورا ہوا اور پاکیزہ انسان بن کر نکلتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے ، اس کا صحیح استقبال کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کا استقبال نہیں بلکہ رمضان کی چاہیے کہ اس مہینے رمضان کا سے پہلے کے ساتھ جاتی ہے کا صحیح کے لیے اگر ہم کی دعا اور اس
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :