Jasarat News:
2026-06-02@23:14:00 GMT

رمضانِ امتحان: خون کی گواہی اور امت کی خاموشی

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا کے مختلف خطّوں میں مسلمان رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کہیں بازار روشن ہیں، کہیں افطار کے دسترخوانوں کی فہرستیں بن رہی ہیں، کہیں مساجد کی صفائی اور آرائش جاری ہے، اور کہیں ٹی وی اسکرینوں پر خصوصی نشریات کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ رمضان ہمارے ہاں ایک روحانی موسم بھی ہے اور ایک سماجی تہوار بھی۔ مگر اسی دنیا میں ایک خطہ ایسا بھی ہے جہاں رمضان کیلنڈر کے صفحوں پر نہیں بلکہ کفنوں پر لکھا جا رہا ہے؛ جہاں سحری کی اذان سے پہلے گھروں کی چھتیں نہیں بلکہ دل لرزتے ہیں؛ جہاں افطار کی میز پر کھجور نہیں بلکہ خون اور ملبہ رکھا ہے۔ یہ وہ رمضان ہے جسے امت ِ مسلمہ کے ایک حصے نے اللہ کے حضور شہادت، صبر اور قربانی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہاں استقبال روشنیوں سے نہیں بلکہ اندھیروں میں جلتے حوصلوں سے ہوا ہے۔ وہاں عبادت محض رکوع و سجود کا نام نہیں بلکہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی رمضان منا رہے ہیں یا صرف رمضان استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم اس مہینے کو تقویٰ، اصلاح اور اجتماعی ذمے داری کا ذریعہ بنا رہے ہیں، یا اسے چند مذہبی رسوم تک محدود کر چکے ہیں؟

ہم عبادت کرتے ہیں مگر اس شرط پر کہ وہ ہمارے معمولات کو زیادہ نہ چھیڑے، ہمارے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے اور ہماری سہولتوں میں خلل نہ ڈالے۔ ہم روزے رکھتے ہیں مگر آنکھوں کے نہیں؛ ہم تراویح پڑھتے ہیں مگر ضمیر کی نہیں؛ ہم دعائیں مانگتے ہیں مگر ان دعاؤں کی قیمت ادا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ ہیں جن کے لیے رمضان زندگی اور موت کے درمیان ایک معلق پل ہے۔ ان کے لیے سحری ایک سوال ہے کیا ہم کل تک زندہ رہیں گے؟ اور افطار ایک امید شاید آج بم نہ گرے۔ وہاں عبادت آنسوؤں سے آگے بڑھ کر قربانی تک پہنچ چکی ہے۔ وہاں دعائیں صرف ہاتھ اٹھا کر نہیں بلکہ جنازے اٹھا کر کی جا رہی ہیں۔ یہ تضاد ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔ کیا ہماری عبادت ہمیں امت کے درد سے جوڑ رہی ہے یا ہم نے اسے نجی نجات کا ایک نسخہ بنا لیا ہے؟

اے حرمین کے عبادت گزار! یہ جملہ کسی کی تحقیر نہیں بلکہ ایک روحانی تنبیہ ہے۔ اگر عبادت امت کے دکھ سے کٹ جائے تو وہ اپنی تاثیر کھو دیتی ہے۔ اگر روزہ ہمیں ظلم کے خلاف حساس نہ بنائے، اگر قیام ہمیں سچ کے لیے کھڑا نہ کرے، اگر دعا ہمیں مظلوم کے ساتھ جوڑ نہ دے تو ہمیں اپنی عبادت پر نظر ِ ثانی کرنی ہوگی۔ قرآن نے روزے کا مقصد تقویٰ بتایا ہے۔ اور تقویٰ صرف ذاتی پرہیزگاری کا نام نہیں بلکہ اخلاقی جرأت کا نام بھی ہے۔ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ظالم کے ساتھ نہ کھڑا ہو اور مظلوم سے منہ نہ موڑے۔ اگر ہماری عبادت ہمیں یہ شعور نہیں دے رہی تو مسئلہ دین کا نہیں، ہمارے فہم کا ہے۔

ہم آنسو بہاتے ہیں، اور آنسو بے قیمت نہیں ہوتے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے آنسو کہاں تک جاتے ہیں؟ کیا وہ صرف سوشل میڈیا کی پوسٹ تک محدود رہتے ہیں یا عملی موقف تک پہنچتے ہیں؟ آنسو ہمدردی کی علامت ہیں، مگر خون عزم اور قربانی کی علامت ہے۔ آنسو احساس ہیں، خون اعلان ہے۔ ’’جو اپنے رخسار آنسوؤں سے تر کرتے ہیں، ہمارے تو گلے اپنے خون سے رنگے جا رہے ہیں‘‘۔ یہ جملہ الزام نہیں، ایک تلخ حقیقت ہے۔ اسلام ہم سے صرف رونے کا نہیں بلکہ کھڑے ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔ حق کے لیے آواز بلند کرنا، ظلم کے خلاف کم از کم موقف اختیار کرنا، اور مظلوم کے ساتھ قلبی و عملی وابستگی رکھنا یہ سب عبادت کے دائرے میں آتا ہے۔

رمضان: صبر یا بے حسی؟ ہم نے صبر کو بھی محدود مفہوم میں قید کر دیا ہے۔ ہم اسے خاموشی، مصلحت اور بے عملی کا مترادف سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ قرآن میں صبر کا مفہوم ثابت قدمی اور مزاحمت سے جڑا ہوا ہے۔ صبر کا مطلب ہے حق پر ڈٹے رہنا، چاہے قیمت کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ جو لوگ جنگ اور بمباری کے سائے میں روزے رکھ رہے ہیں، وہ صبر کی عملی تصویر ہیں۔ اور ہم؟ ہم صبر کے نام پر اکثر خاموش رہتے ہیں، یہ سوچ کر کہ ہمارے بولنے یا نہ بولنے سے کیا فرق پڑے گا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ خاموشی بھی ایک موقف ہوتی ہے، اور بعض اوقات ظالم کے حق میں جاتی ہے۔ یہ رمضان ہم سے سوال کرتا ہے: کیا تم صرف بھوک برداشت کر سکتے ہو یا ظلم کے خلاف کھڑے بھی ہو سکتے ہو؟ کیا تم صرف پیاس سہہ سکتے ہو یا سچ کی قیمت بھی ادا کر سکتے ہو؟

یہ وقت صرف ظالموں کے احتساب کا نہیں بلکہ امت کے اجتماعی احتساب کا بھی ہے۔ ہم نے کب مظلوموں کو خبروں کی سرخی بنا کر بھلا دیا؟ ہم نے کب شہادت کو اعداد و شمار میں بدل دیا؟ ہم نے کب دین کو صرف ذاتی نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اجتماعی ذمے داری کو پس ِ پشت ڈال دیا؟ فلسطین ہو، کشمیر ہو، شام ہو یا کوئی اور خطہ ہم نے ان کے درد کو چند لمحوں کی جذباتی کیفیت تک محدود کر دیا۔ ہم نے غم منایا، پوسٹ لکھی، دعا کی اور پھر معمول کی زندگی میں لوٹ آئے۔ یہ رویہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ہم نے عبادت کو جذباتی تسلی کا ذریعہ تو نہیں بنا لیا؟ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ صرف ہماری نمازوں اور روزوں کو نہیں دیکھے گا بلکہ ہمارے رویوں، ترجیحات اور اجتماعی کردار کو بھی پرکھے گا۔

جب حالات بے بس کر دیں، جب دنیا کے دروازے بند ہو جائیں، جب امت منتشر نظر آئے، تب کہنا کہ ’’اللہ ہی ہمیں کافی ہے‘‘ کمزوری نہیں بلکہ ایمان کا اعلان ہے۔ یہ وہی کلمہ ہے جو انبیاء نے شدید آزمائشوں میں کہا۔ یہی جملہ آج بھی مظلوم دلوں کی دھڑکن ہے۔ مگر اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائیں۔ اللہ پر توکل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی استطاعت کے مطابق حق کا ساتھ دے اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دے۔ یہ رمضان ہمیں ایک واضح انتخاب دے رہا ہے۔ ہم اسے ایک مذہبی رسم کی طرح گزار سکتے ہیں۔ افطار پارٹیوں، خصوصی پروگراموں اور وقتی جذبات کے ساتھ۔ یا ہم اسے ضمیر کی بیداری، فکری اصلاح اور اجتماعی ذمے داری کے عہد میں بدل سکتے ہیں۔ ہم صرف عبادت گزار بھی بن سکتے ہیں اور امت کے غمخوار بھی۔ فرق نیت اور موقف کا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ رمضان صرف وہ نہیں جو ہم منا رہے ہیں، رمضان وہ بھی ہے جو ہم پر گزر رہا ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے کو صرف ذاتی نجات تک محدود کر دیا تو ممکن ہے ہم ثواب تو حاصل کر لیں، مگر تاریخ کے سوالوں کا جواب نہ دے سکیں۔ یہ رمضان امتحان ہے ایمان کا، ضمیر کا اور اجتماعی شعور کا۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس امتحان میں سرخرو ہوں، اور ہماری عبادت ہمیں حق کے قریب لے جائے، خاموشی کے نہیں۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اجتماعی نہیں بلکہ تک محدود یہ ہے کہ ہیں مگر رہے ہیں کے ساتھ سکتے ہو بھی ہے ظلم کے کا نام امت کے کے لیے کیا ہم

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی