Jasarat News:
2026-07-24@03:58:19 GMT

رمضانِ امتحان: خون کی گواہی اور امت کی خاموشی

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا کے مختلف خطّوں میں مسلمان رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کہیں بازار روشن ہیں، کہیں افطار کے دسترخوانوں کی فہرستیں بن رہی ہیں، کہیں مساجد کی صفائی اور آرائش جاری ہے، اور کہیں ٹی وی اسکرینوں پر خصوصی نشریات کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ رمضان ہمارے ہاں ایک روحانی موسم بھی ہے اور ایک سماجی تہوار بھی۔ مگر اسی دنیا میں ایک خطہ ایسا بھی ہے جہاں رمضان کیلنڈر کے صفحوں پر نہیں بلکہ کفنوں پر لکھا جا رہا ہے؛ جہاں سحری کی اذان سے پہلے گھروں کی چھتیں نہیں بلکہ دل لرزتے ہیں؛ جہاں افطار کی میز پر کھجور نہیں بلکہ خون اور ملبہ رکھا ہے۔ یہ وہ رمضان ہے جسے امت ِ مسلمہ کے ایک حصے نے اللہ کے حضور شہادت، صبر اور قربانی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہاں استقبال روشنیوں سے نہیں بلکہ اندھیروں میں جلتے حوصلوں سے ہوا ہے۔ وہاں عبادت محض رکوع و سجود کا نام نہیں بلکہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی رمضان منا رہے ہیں یا صرف رمضان استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم اس مہینے کو تقویٰ، اصلاح اور اجتماعی ذمے داری کا ذریعہ بنا رہے ہیں، یا اسے چند مذہبی رسوم تک محدود کر چکے ہیں؟

ہم عبادت کرتے ہیں مگر اس شرط پر کہ وہ ہمارے معمولات کو زیادہ نہ چھیڑے، ہمارے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے اور ہماری سہولتوں میں خلل نہ ڈالے۔ ہم روزے رکھتے ہیں مگر آنکھوں کے نہیں؛ ہم تراویح پڑھتے ہیں مگر ضمیر کی نہیں؛ ہم دعائیں مانگتے ہیں مگر ان دعاؤں کی قیمت ادا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ ہیں جن کے لیے رمضان زندگی اور موت کے درمیان ایک معلق پل ہے۔ ان کے لیے سحری ایک سوال ہے کیا ہم کل تک زندہ رہیں گے؟ اور افطار ایک امید شاید آج بم نہ گرے۔ وہاں عبادت آنسوؤں سے آگے بڑھ کر قربانی تک پہنچ چکی ہے۔ وہاں دعائیں صرف ہاتھ اٹھا کر نہیں بلکہ جنازے اٹھا کر کی جا رہی ہیں۔ یہ تضاد ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔ کیا ہماری عبادت ہمیں امت کے درد سے جوڑ رہی ہے یا ہم نے اسے نجی نجات کا ایک نسخہ بنا لیا ہے؟

اے حرمین کے عبادت گزار! یہ جملہ کسی کی تحقیر نہیں بلکہ ایک روحانی تنبیہ ہے۔ اگر عبادت امت کے دکھ سے کٹ جائے تو وہ اپنی تاثیر کھو دیتی ہے۔ اگر روزہ ہمیں ظلم کے خلاف حساس نہ بنائے، اگر قیام ہمیں سچ کے لیے کھڑا نہ کرے، اگر دعا ہمیں مظلوم کے ساتھ جوڑ نہ دے تو ہمیں اپنی عبادت پر نظر ِ ثانی کرنی ہوگی۔ قرآن نے روزے کا مقصد تقویٰ بتایا ہے۔ اور تقویٰ صرف ذاتی پرہیزگاری کا نام نہیں بلکہ اخلاقی جرأت کا نام بھی ہے۔ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ظالم کے ساتھ نہ کھڑا ہو اور مظلوم سے منہ نہ موڑے۔ اگر ہماری عبادت ہمیں یہ شعور نہیں دے رہی تو مسئلہ دین کا نہیں، ہمارے فہم کا ہے۔

ہم آنسو بہاتے ہیں، اور آنسو بے قیمت نہیں ہوتے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے آنسو کہاں تک جاتے ہیں؟ کیا وہ صرف سوشل میڈیا کی پوسٹ تک محدود رہتے ہیں یا عملی موقف تک پہنچتے ہیں؟ آنسو ہمدردی کی علامت ہیں، مگر خون عزم اور قربانی کی علامت ہے۔ آنسو احساس ہیں، خون اعلان ہے۔ ’’جو اپنے رخسار آنسوؤں سے تر کرتے ہیں، ہمارے تو گلے اپنے خون سے رنگے جا رہے ہیں‘‘۔ یہ جملہ الزام نہیں، ایک تلخ حقیقت ہے۔ اسلام ہم سے صرف رونے کا نہیں بلکہ کھڑے ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔ حق کے لیے آواز بلند کرنا، ظلم کے خلاف کم از کم موقف اختیار کرنا، اور مظلوم کے ساتھ قلبی و عملی وابستگی رکھنا یہ سب عبادت کے دائرے میں آتا ہے۔

رمضان: صبر یا بے حسی؟ ہم نے صبر کو بھی محدود مفہوم میں قید کر دیا ہے۔ ہم اسے خاموشی، مصلحت اور بے عملی کا مترادف سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ قرآن میں صبر کا مفہوم ثابت قدمی اور مزاحمت سے جڑا ہوا ہے۔ صبر کا مطلب ہے حق پر ڈٹے رہنا، چاہے قیمت کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ جو لوگ جنگ اور بمباری کے سائے میں روزے رکھ رہے ہیں، وہ صبر کی عملی تصویر ہیں۔ اور ہم؟ ہم صبر کے نام پر اکثر خاموش رہتے ہیں، یہ سوچ کر کہ ہمارے بولنے یا نہ بولنے سے کیا فرق پڑے گا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ خاموشی بھی ایک موقف ہوتی ہے، اور بعض اوقات ظالم کے حق میں جاتی ہے۔ یہ رمضان ہم سے سوال کرتا ہے: کیا تم صرف بھوک برداشت کر سکتے ہو یا ظلم کے خلاف کھڑے بھی ہو سکتے ہو؟ کیا تم صرف پیاس سہہ سکتے ہو یا سچ کی قیمت بھی ادا کر سکتے ہو؟

یہ وقت صرف ظالموں کے احتساب کا نہیں بلکہ امت کے اجتماعی احتساب کا بھی ہے۔ ہم نے کب مظلوموں کو خبروں کی سرخی بنا کر بھلا دیا؟ ہم نے کب شہادت کو اعداد و شمار میں بدل دیا؟ ہم نے کب دین کو صرف ذاتی نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اجتماعی ذمے داری کو پس ِ پشت ڈال دیا؟ فلسطین ہو، کشمیر ہو، شام ہو یا کوئی اور خطہ ہم نے ان کے درد کو چند لمحوں کی جذباتی کیفیت تک محدود کر دیا۔ ہم نے غم منایا، پوسٹ لکھی، دعا کی اور پھر معمول کی زندگی میں لوٹ آئے۔ یہ رویہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ہم نے عبادت کو جذباتی تسلی کا ذریعہ تو نہیں بنا لیا؟ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ صرف ہماری نمازوں اور روزوں کو نہیں دیکھے گا بلکہ ہمارے رویوں، ترجیحات اور اجتماعی کردار کو بھی پرکھے گا۔

جب حالات بے بس کر دیں، جب دنیا کے دروازے بند ہو جائیں، جب امت منتشر نظر آئے، تب کہنا کہ ’’اللہ ہی ہمیں کافی ہے‘‘ کمزوری نہیں بلکہ ایمان کا اعلان ہے۔ یہ وہی کلمہ ہے جو انبیاء نے شدید آزمائشوں میں کہا۔ یہی جملہ آج بھی مظلوم دلوں کی دھڑکن ہے۔ مگر اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائیں۔ اللہ پر توکل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی استطاعت کے مطابق حق کا ساتھ دے اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دے۔ یہ رمضان ہمیں ایک واضح انتخاب دے رہا ہے۔ ہم اسے ایک مذہبی رسم کی طرح گزار سکتے ہیں۔ افطار پارٹیوں، خصوصی پروگراموں اور وقتی جذبات کے ساتھ۔ یا ہم اسے ضمیر کی بیداری، فکری اصلاح اور اجتماعی ذمے داری کے عہد میں بدل سکتے ہیں۔ ہم صرف عبادت گزار بھی بن سکتے ہیں اور امت کے غمخوار بھی۔ فرق نیت اور موقف کا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ رمضان صرف وہ نہیں جو ہم منا رہے ہیں، رمضان وہ بھی ہے جو ہم پر گزر رہا ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے کو صرف ذاتی نجات تک محدود کر دیا تو ممکن ہے ہم ثواب تو حاصل کر لیں، مگر تاریخ کے سوالوں کا جواب نہ دے سکیں۔ یہ رمضان امتحان ہے ایمان کا، ضمیر کا اور اجتماعی شعور کا۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس امتحان میں سرخرو ہوں، اور ہماری عبادت ہمیں حق کے قریب لے جائے، خاموشی کے نہیں۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اجتماعی نہیں بلکہ تک محدود یہ ہے کہ ہیں مگر رہے ہیں کے ساتھ سکتے ہو بھی ہے ظلم کے کا نام امت کے کے لیے کیا ہم

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف