اس سال بھی ملک بھر میں ایک دن روزہ رکھا جائے گا؛مولانا عبدالخبیر آزاد
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزادنے کہا ہے کہ اس سال بھی ملک بھر میں ایک دن روزہ رکھا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہاکہ آج مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں ہو رہا ہے ،کچھ سال سے ملک بھر میں ایک ہی روز روزہ رکھنے کا اعلان ہو رہا ہے،انشااللہ اس سال بھی ملک بھر میں ایک دن روزہ رکھا جائے گا،ان کاکہنا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی میں وزارت سائنس، محکمہ موسمیات، سپارکو بھی ہے،وزارت سائنس، محکمہ موسمیات چاند دیکھنے میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں ۔
بھارتی ٹک ٹاکر کو ریل بنانے کیلئے بائیک اسٹنٹ اور چلتی بسوں کے دروازے کھولنا مہنگا پڑ گیا، ویڈیو وائرل
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ملک بھر میں ایک
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔