’اندازہ نہیں تھا ان کا ظرف اتنا چھوٹا ہے‘، شیر افضل مروت کا سہیل آفریدی سے دوبارہ ہاتھ نہ ملانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ وہ نہ کبھی سہیل آفریدی کے پیچھے گئے ہیں اور نہ ہی انہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ علی امین گنڈاپور سے ملاقات کے بعد واپس جا رہے تھے کہ اس دوران سہیل آفریدی اور دیگر افراد وہاں موجود تھے۔ انہوں نے روایت اور اقدار کے تحت سب سے مصافحہ کیا اور چائے و کھانے کی دعوت بھی دی تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ظرف اتنا چھوٹا ہے۔
میں نہ کبھی سہیل افریدی کے پیچھے گیا ہوں، نہ جاؤں گا۔ میں نے انہیں کھانے کی دعوت بھی دی، لیکن سہیل افریدی PTI کی سوشل میڈیا سے ڈرتے ہیں۔ آئندہ اب میں ان سے ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔
شیر افضل مروت pic.
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) February 17, 2026
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا سے ڈرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ علی امین گنڈاپور کے ساتھ بیٹھیں گے تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ وہ ان سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن کے دھرنے میں شیر افضل مروت کی انٹری نے سب جو چونکا دیا تھا۔ ان کی آمد پر صورتِحال میں اچانک کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ جبکہ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شیر افضل مروت کو دیکھ کر کرسی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا
شیرافضل مروت نے بعد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ صرف علی امین گنڈاپور سے ملنے آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو دوستی نبھانا جانتے ہیں اور بڑے عہدے انسان کو بڑا نہیں بناتے بلکہ بڑا ظرف انسان کو بڑا بناتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی پی ٹی آئی دھرنا سہیل آفریدی شیر افضل مروت ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی دھرنا سہیل ا فریدی شیر افضل مروت ویڈیو وائرل شیر افضل مروت سہیل آفریدی انہوں نے سہیل ا
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.