پاکستان کی مالی کارگردگی میں اہم پیش رفت ، مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں تاریخی مالیاتی سرپلس حاصل
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کی مالی کارکردگی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں ملک نے تاریخی مالیاتی سرپلس حاصل کر لیا۔
ذرائع کے مطابق ایس آئی ایف سی کی مؤثر معاشی حکمتِ عملی اور مالی نظم و ضبط کے باعث پاکستان کی مالیاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 542 ارب روپے کا مالیاتی سرپلس حاصل ہوا جو مالی استحکام کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اخراجات میں کمی، مؤثر پالیسیوں کے نفاذ اور حکومتی آمدن میں اضافے نے مجموعی مالی صورتحال کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹیکس وصولیوں میں بہتری، اسٹیٹ بینک کے منافع اور پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافے سے حکومتی وسائل میں نمایاں وسعت آئی ہے۔
قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی اور سخت مالی نظم و ضبط کے باعث قومی خزانے پر دباؤ کم ہوا جبکہ مالی بچت مزید مستحکم ہوئی۔
ایس آئی ایف سی کی رہنمائی میں اختیار کی گئی مضبوط مالی پالیسیوں اور مستحکم معاشی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان پائیدار معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو آئندہ برسوں میں ملکی معیشت مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔