ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: جنوبی افریقا کا یو اے ای کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے چونتیسویں میچ میں جنوبی افریقا نے یو اے ای کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پہلے بولنگ کے فیصلے پر ایڈن مارکرام کا کہنا تھا کہ بارش کے باعث وکٹ پر موجود نمی کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
جنوبی افریقی ٹیم میں چار تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
دوسری جانب یو اے ای کے کپتان محمد وسیم کا کہنا تھا کہ ہم بھی پہلے بولنگ کرکے وکٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقی ٹیم میں زیادہ لیفٹ آرم بیٹرز کی موجودگی کے باعث ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔