اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)رمضان المبارک کے لیے عدالتوں، دفاتر اور اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان کردیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کے نئے عدالتی اور دفتری اوقات کار کا چیف جسٹس کی منظوری کے بعد رجسٹرار آفس نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

اعلامیے کے مطابق دوران رمضان پیر تا جمعرات 9.

30 سے 11.30 تک کیسز کی سماعت ہوگی، روزانہ  صبح ساڑھے 11 سے 12 بجے تک عدالتی وقفہ کیا جائے گا، 12 سے ڈیڑھ بجے تک ڈویژن بینچ کیسز کی سماعت کی جائے گی۔ جمعہ کو 9.30 سے 11.30 بجے تک ہی کیسز کی سماعت کی جائے گی۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: یو اے ای کی جنوبی افریقا کیخلاف بیٹنگ جاری

پیرسے جمعرات تک دفتری اوقات کار9 سے 2.30 تک ہوں گے، جمعہ کےروز دفتری اوقات کار 9 سے12 بجے تک ہوں گے، ماتحت عدالتوں میں صبح 9 سے 2.30 تک کیسز کی سماعت ہوگی، جمعہ کو ماتحت عدالتوں میں 9 سے12 بجے تک کیسز سنے جائیں گے۔

قبل ازیں وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے بھی رمضان المبارک کے دوران دفتری اوقات کار کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ پیر سے جمعرات تک دفاتر صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو صبح 9 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک دفتری اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب پیر سے جمعرات تک رمضان کے دوران سندھ کے سرکاری دفاتر صبح 10 بجے سے دوپہر 4 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ جمعہ کو صبح 10 سے 1 بجہ تک دفاتر کھلے رہیں گے۔

اس سال بھی ملک بھر میں ایک دن روزہ رکھا جائے گا؛مولانا عبدالخبیر آزاد

رپورٹ کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے رمضان المبارک میں اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کر دیے۔ رمضان المبارک میں اسکول صبح ساڑھے 8 بجے شروع ہوں گے جبکہ چھٹی دوپہر ایک بجے ہوگی۔ رمضان المبارک کے دوران ہفتہ کے روز اساتذہ کو بھی چھٹی ہوگی۔ اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ جس کا اطلاق یکم رمضان المبارک سے ہوگا۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: رمضان المبارک کے دفتری اوقات کار کیسز کی سماعت بجے تک

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع

سٹی 42:  کفایت شعاری اقدامات میں  نائب وزیر اعظم نے  مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی

کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔

تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟