سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، پولیس ریکارڈ سے ذات برادری کا خاتمہ لازم قرار
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے ایک اہم اور دور رس اثرات کے حامل فیصلے میں واضح کیا ہے کہ پولیس کے سرکاری ریکارڈ میں کسی بھی شہری کی ذات، برادری یا مذہبی حیثیت کا ذکر نہیں کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے انسپکٹر جنرلز کو پابند کیا ہے کہ ایف آئی آرز، گرفتاری میموز، برآمدگی رپورٹس، تفتیشی دستاویزات اور چالان سمیت کسی بھی سرکاری تحریر میں شکایت کنندہ، ملزم، متاثرہ فرد یا گواہ کے نام کے ساتھ ایسی کوئی درجہ بندی شامل نہ ہو جو امتیازی یا توہین آمیز ہو۔
عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے، جس کی سربراہی جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے کی، ایک فوجداری مقدمے کی سماعت کے دوران یہ اصول وضع کیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف اسی صورت میں کسی شناختی حوالہ کو شامل کیا جا سکتا ہے جب تفتیشی افسر تحریری طور پر یہ ثابت کرے کہ یہ معلومات جرم کی نوعیت سے براہ راست متعلق اور ناگزیر ہیں۔ بصورت دیگر اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
6 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرے میں اب بھی انسان کی عزت کو اس کے پیشے یا سماجی پس منظر سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ انسانی وقار کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جو اسے محض انسان ہونے کے ناتے حاصل ہے۔
فیصلے میں اس رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ بعض روایتی اصطلاحات اب محض شناخت کے بجائے تحقیر کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جو نہ صرف سماجی تقسیم کو گہرا کرتی ہیں بلکہ آئینی مساوات کے اصول سے بھی متصادم ہیں۔ عدالت نے اس تضاد کی نشاندہی کی کہ معاشرہ صفائی جیسے بنیادی کام انجام دینے والوں پر انحصار کرتا ہے مگر انہی افراد کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔
عدالت نے عالمی انسانی حقوق کے معاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ قانون کے سامنے برابری اور امتیازی سلوک کے خاتمے کی ضمانت پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داری بھی ہے۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نو مسلم یا کسی بھی شہری کو کسی اضافی شناخت کے ذریعے ممتاز کرنا اسلامی تعلیمات اور ملکی قوانین دونوں کے منافی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظامپنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع
اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔
موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیںنئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاریٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔
مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کارشہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن