آئی ایم ایف کی شرط پر کیپٹو پاور لیوی نافذ، بجلی سستی کرنے کی راہ ہموار
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط پر وفاقی حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کر دی ہے، جس سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد پاور سیکٹر میں مالی توازن بہتر بنانا اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وفاقی حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر ایک ہزار 247 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو لیوی مقرر کی ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی رقم بجلی کے تمام صارفین کے لیے ٹیرف کم کرنے پر استعمال کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے گھریلو اور صنعتی صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
حکومت نے منصوبہ بنایا ہے کہ کیپٹو پاور لیوی سے حاصل رقم کو ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس سے مہنگی بجلی کے بوجھ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
پیٹرولیم ڈویژن نے دسمبر 2025 سے لیوی کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جبکہ یہ اقدام آف دی گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025 کے تحت کیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ پہلے ہی اس لیوی سے حاصل ریلیف بجلی صارفین کو منتقل کرنے کی منظوری دے چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیپٹو پاور
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔