Jasarat News:
2026-06-02@23:31:13 GMT

صنعتی شعبے کو بڑا ریلیف، بجلی 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ سستی

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وفاقی حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی کا اعلان کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت توانائی کے مطابق صنعتی یونٹس کے لیے فی یونٹ بجلی 4 روپے 4 پیسے سستی کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق یکم فروری 2026 سے ہوگا۔ اس فیصلے کو ملکی صنعت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے پیداواری لاگت میں کمی اور برآمدات میں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق نرخوں میں کمی کے بعد صنعتی صارفین کے لیے بنیادی ٹیرف 33 روپے 58 پیسے سے کم ہو کر 29 روپے 54 پیسے فی یونٹ ہو گیا ہے۔

نئی قیمت کے تحت صنعتوں کے لیے بجلی کا ٹیرف تقریباً ساڑھے 11 سینٹ فی یونٹ کے برابر بنتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صنعتوں پر عائد 101 ارب روپے کی کراس سبسڈی کا بوجھ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جو طویل عرصے سے کاروباری حلقوں کا اہم مطالبہ تھا۔

ذرائع کے مطابق صنعتی نمائندوں نے بجلی کی بلند قیمتوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد پاور ڈویژن نے معاملہ ریگولیٹری اتھارٹی کے سامنے اٹھایا۔ نیپرا نے 11 فروری کو سماعت مکمل کر کے اپنی سفارشات حکومت کو بھجوائیں، جن کی روشنی میں اب باضابطہ عمل درآمد کیا گیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی لاگت میں کمی سے نہ صرف مقامی صنعت کو سہارا ملے گا بلکہ بیرونی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔ کاروباری برادری نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ توانائی شعبے میں مزید اصلاحات سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق فی یونٹ کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان