مظفرآباد میں کامیاب اوورسیز کانفرنس کا انعقاد فیلڈمارشل کی واضح پالیسیوں کا مظہر ہے، سردار عتیق
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
صدر مسلم کانفرنس نے کہا کہ اورسیز کانفرنس کی کامیابی فیلڈ مارشل کی جاندار پالیسیوں کا مظہر ہے، کشمیر پالیسی اور دفاعی پالیسی پر اعتماد کا مظہر ہے، وہ جہاں بھی گئے خیر کی خبر لائے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں کامیاب اورسیز کانفرنس انعقاد فیلڈمارشل جنرل سید عاصم منیر کی واضح پالیسیوں کا مظہر ہے، کانفرنس کی کامیابی اور انعقاد میں جملہ کردار مبارکباد کے مستحق ہیں، 5 فروری کو جنرل عاصم منیر نے خطاب کے دوران کہا کشمیر کی آزادی کے لئے 3 جنگیں لڑی ہیں مذید 13 لڑ سکتے ہیں اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور کشمیر کا ایک انچ ٹکڑا ہم کسی کو نہیں دے سکتے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور شہ رگ پر وار کرنے والوں سے کبھی کوئی رعایت نہیں کی جائے گی، فیلڈ مارشل کے اس جاندار موقف کے بعد آزاد کشمیر سمیت جہاں بھی کشمیری مقیم ہیں ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی عوام بھی ان سے آزادی دلوانے کی امید وابستہ کئے ہوئے ہیں، معرکہ حق کے بعد مسئلہ کشمیر فلش پوائنٹ بن چکا ہے، معرکہ حق اور بنیان مرصوص کے بعد جو پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے وہ تاریخی لمحہ ہے۔
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے اوورسیز کانفرنس کی کامیابی کا کریڈٹ صدر پاکسان آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، قائمقام صدر چوہدری لطیف اکبر، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھو اور بالخصوص فلیڈ مارشل سید عاصم منیر کو دیتے ہوئے کہا کہ اورسیز کانفرنس کا انعقاد ایک انتہائی مثبت قدم ہے، اورسیز پاکستانیوں اور کشمیریوں کے رضاکارانہ سفیر ہیں، ان کی پارلمینٹ سمیت ہر فورم پر آواز پہنچتی ہے اور اپنے اثر ورسوخ سے یہ دنیا کی توجہ حاصل کئے ہوئے ہیں، اڑوس پڑوس کے ممالک اورسیز کے ذریعے زرمبادلہ ملکوں میں لے کر جا رہے ہیں اور ممالک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں، اورسیز کانفرنس کے بعد آزاد کشمیر میں بڑا گیپ موجود ہے کہ ان کی مدد سے ہم ہنڈی کرافٹ، منزل، سیاحت سمیت بہت سے شعبوں میں ترقی کر سکتا ہے، کشمیری چادر جس کی دنیا میں کوئی کاپی نہیں کر سکا، جاپان اور کوریا بھی کشمیری شال کو کاپی کرنے میں ناکام رہے ہیں، کشمیری چادر کی دنیا میں مثال نہیں ملتی، اورسیز انویسٹ منٹ پر میکنیزم بنائیں جس سے فارن ایکس چینج آ سکتا ہے ملک میں زرمبادلہ آتا ہے، ان کے ذریعے پڑھے لکھے اور بے روزگارنوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ہو سکتی ہے۔
حکومت پاکستان فارن آفس کے ذریعے پوری دنیا میں ایک مقام بنا سکتی ہے، سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ اورسیز کانفرنس کی کامیابی فیلڈ مارشل کی جاندار پالیسیوں کا مظہر ہے، کشمیر پالیسی اور دفاعی پالیسی پر اعتماد کا مظہر ہے، وہ جہاں بھی گئے خیر کی خبر لائے، پہلی بار قوم کو نظریے اور عقیدت و ایمان کی بات سننے کو ملی۔ اورسیز کانفرنس کی کامیابی پر قائمقام صدر چوہدری لطیف اکبر، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، عسکری قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اورسیز ہمارے لئے دن رات ایک کرکے ہر طرح کی معاونت کرتے ہیں جن کے پاکستانی و کشمیری عوام مشکور ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پالیسیوں کا مظہر ہے کانفرنس کی کامیابی اورسیز کانفرنس کے بعد
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔