ممبئی (ویب ڈیسک) ویسٹ انڈیز کے سابق کرکٹر ویوین رچرڈز کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں بات کھل کر بات کرتے ہوئے بالی وڈ اداکارہ نینا گپتا نے بتایا ہے کہ بیٹی مسابا گپتا کی پیدائش کے باوجود وہ ویوین سے شادی کیوں نہ کر پائیں۔
اپنے ایک حالیہ پوڈکاسٹ کے دوران نینا گپتا بتایا کہ ویوین رچرڈز سے متعلق بتایا کہ میرا خیال ہے ہم محبت میں تھے، اگرچہ ہم بہت کم عرصے تک ساتھ رہے لیکن جو وقت ہم نے ایک ساتھ گزارا وہ بہت خوبصورت تھا۔

شادی نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے نینا گپتا نے کہا کہ یہ عملی طور پر ممکن نہیں تھا، یا تو مجھے اپنی نوکری چھوڑ کر ویسٹ انڈیز جانا پڑتا، یا پھر اُنہیں اپنا کیریئر چھوڑ کر بھارت آنا پڑتا اور ان میں سے کوئی بھی بات ممکن نہیں تھی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ اُس وقت میں محبت میں اندھی ہو چکی تھی، ایسے حالات میں کون دوسروں کی سنتا ہے؟ کون اپنے فیصلوں پر رک کر غور کرتا ہے؟ کون اپنے والدین کی بات مانتا ہے؟ مسابا کی پیدائش کا فیصلہ میرا اپنا تھا، پھر میں نے ویوین سے پوچھا کہ کیا وہ اس بات پر راضی ہیں کہ میں اُن کے بچے کو جنم دوں، تو انہوں نے بھی ہاں کہہ دیا۔

نینا گپتا نے کہا کہ ویوین رچرڈز نے کبھی بھی عوامی طور پر مسابا کو اپنی بیٹی تسلیم کرنے سے گریز نہیں کیا، اکیلے بچے کی پرورش کرنا آسان نہیں ہوتا، اور یہ بچے کیلئے بھی بہتر نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ نینا گپتا کی ذاتی زندگی اکثر خواتین کی خود مختاری سے متعلق ان کے خیالات کے تناظر میں زیرِ بحث رہی ہے، انہوں نے نومبر 1989ء میں شادی کے بغیر اپنی بیٹی مسابا کو جنم دیا، تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھلے ہی میرا یہ فیصلہ میرے لیے درست ثابت ہوا، لیکن میں دوسروں کو مشورہ نہیں دوں گی کہ ایسا قدم بغیر سوچے سمجھے اٹھائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نینا گپتا نے

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق