ویوین رچرڈز سے محبت اور بیٹی کی پیدائش کے سوال پر نینا گپتا کا دو ٹوک جواب
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
بالی ووڈ کی سینئر اور بے باک اداکارہ نینا گپتا نے ایک بار پھر اپنی ذاتی زندگی، خصوصاً ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری کرکٹر ویوین رچرڈز کے ساتھ تعلق, بیٹی کی پیدائش اور پھر زندگی بھر شادی نہ کرنے کے فیصلے پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک پوڈکاسٹ میں نینا گپتا سے جب ویوین رچرڈز کے ساتھ محبت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے قدرے طنزیہ مگر صاف انداز میں جواب دیا۔
ادکارہ نینا گپتا نے کہا کہ یہی سوال اُن (ویوین رچرڈز) سے جا کر پوچھیں۔ سب لوگ اُن سے سوال کرنے سے گھبراتے ہیں۔ آپ سب مجھ سے ہی کیوں پوچھتے ہیں؟”
نینا گپتا نے اس گفتگو میں تسلیم کیا کہ وہ اور ویوین رچرڈز ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے تاہم یہ ساتھ زیادہ عرصے تک نہیں رہا۔
نینا گپتا نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اُس وقت وہ محبت میں اندھی ہو چکی تھیں اور ایسے وقت میں نہ کوئی دوسروں کی سنتا ہے، نہ والدین کی، نہ ہی اپنے فیصلوں پر غور کرتا ہے۔
اداکارہ نے اعتراف کہا کہ ہم نے جو بھی وقت ایک ساتھ گزارا، وہ خوبصورت تھا اور میں اس سے انکار نہیں کرتی۔
شادی نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے نینا گپتا نے کہا کہ یہ فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ عملی مجبوریوں کی بنیاد پر تھا۔
انھوں نے وضاحت کی کہ یا تو انہیں بھارت میں اپنا کام چھوڑ کر ویسٹ انڈیز جانا پڑتا یا پھر ویوین رچرڈز کو اپنا بین الاقوامی کرکٹ کیریئر ختم کرکے بھارت آنا پڑتا جو دونوں کے لیے ممکن نہیں تھا۔
ویوین رچرڈز کی بیٹی کی ماں بننے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں نینا گپتا نے بتایا کہ نومبر 1989 میں بیٹی مسابا گپتا کو شادی کے بغیر ہی جنم دیدینا ان کا ذاتی اور سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پہلے انہوں نے ویوین رچرڈز سے پوچھا تھا کہ آیا وہ اس بات پر راضی ہیں یا نہیں، جس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔
اداکارہ کے مطابق ویوین رچرڈز نے کبھی بھی عوامی طور پر مسابا کو اپنی بیٹی تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا۔
تاہم نینا گپتا نے یہ بھی واضح کیا کہ اکیلے بچے کی پرورش آسان نہیں ہوتی اور یہ صورتِ حال بچے کے لیے بھی مثالی نہیں سمجھی جاتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نینا گپتا نے ویوین رچرڈز انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔