بالی ووڈ کی سینئر اور بے باک اداکارہ نینا گپتا نے ایک بار پھر اپنی ذاتی زندگی، خصوصاً ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری کرکٹر ویوین رچرڈز کے ساتھ تعلق, بیٹی کی پیدائش اور پھر زندگی بھر شادی نہ کرنے کے فیصلے پر کھل کر گفتگو کی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک پوڈکاسٹ میں نینا گپتا سے جب ویوین رچرڈز کے ساتھ محبت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے قدرے طنزیہ مگر صاف انداز میں جواب دیا۔

ادکارہ نینا گپتا نے کہا کہ یہی سوال اُن (ویوین رچرڈز) سے جا کر پوچھیں۔ سب لوگ اُن سے سوال کرنے سے گھبراتے ہیں۔ آپ سب مجھ سے ہی کیوں پوچھتے ہیں؟”

نینا گپتا نے اس گفتگو میں تسلیم کیا کہ وہ اور ویوین رچرڈز ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے تاہم یہ ساتھ زیادہ عرصے تک نہیں رہا۔

نینا گپتا نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اُس وقت وہ محبت میں اندھی ہو چکی تھیں اور ایسے وقت میں نہ کوئی دوسروں کی سنتا ہے، نہ والدین کی، نہ ہی اپنے فیصلوں پر غور کرتا ہے۔

اداکارہ نے اعتراف کہا کہ ہم نے جو بھی وقت ایک ساتھ گزارا، وہ خوبصورت تھا اور میں اس سے انکار نہیں کرتی۔

شادی نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے نینا گپتا نے کہا کہ یہ فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ عملی مجبوریوں کی بنیاد پر تھا۔

انھوں نے وضاحت کی کہ یا تو انہیں بھارت میں اپنا کام چھوڑ کر ویسٹ انڈیز جانا پڑتا یا پھر ویوین رچرڈز کو اپنا بین الاقوامی کرکٹ کیریئر ختم کرکے بھارت آنا پڑتا جو دونوں کے لیے ممکن نہیں تھا۔

ویوین رچرڈز کی بیٹی کی ماں بننے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں نینا گپتا نے بتایا کہ نومبر 1989 میں بیٹی مسابا گپتا کو شادی کے بغیر ہی جنم دیدینا ان کا ذاتی اور سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پہلے انہوں نے ویوین رچرڈز سے پوچھا تھا کہ آیا وہ اس بات پر راضی ہیں یا نہیں، جس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔

اداکارہ کے مطابق ویوین رچرڈز نے کبھی بھی عوامی طور پر مسابا کو اپنی بیٹی تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا۔

تاہم نینا گپتا نے یہ بھی واضح کیا کہ اکیلے بچے کی پرورش آسان نہیں ہوتی اور یہ صورتِ حال بچے کے لیے بھی مثالی نہیں سمجھی جاتی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نینا گپتا نے ویوین رچرڈز انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف