مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع وادی اردن میں صیہونی فوج کی بچھائی بارودی سرنگ پھٹنے سے 2 بچے شہید
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق قصبہ جفتلک کے میئر احمد غوانمہ نے بتایا کہ قصبے کے پانچ بچے قریبی گاؤں فروش بیت دجن کی اراضی میں موجود تھے کہ اس دوران قابض اسرائیلی فوج کا چھوڑا ہوا ایک بارودی مواد (لینڈ مائن) زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر اریحا کے شمال میں واقع وسطی وادی اردن کے قصبے جفتلک میں قابض اسرائیلی فوج کے چھوڑے ہوئے بارودی مواد کے دھماکے کے نتیجے میں دو فلسطینی بچے شہید اور 3 دیگر زخمی ہو گئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق قصبہ جفتلک کے میئر احمد غوانمہ نے بتایا کہ قصبے کے پانچ بچے قریبی گاؤں فروش بیت دجن کی اراضی میں موجود تھے کہ اس دوران قابض اسرائیلی فوج کا چھوڑا ہوا ایک بارودی مواد (لینڈ مائن) زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں دو بچے جامِ شہادت نوش کر گئے اور تین دیگر انتہائی شدید زخمی ہوئے۔ فی الوقت ان کے ناموں یا زخموں کی نوعیت کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ احمد غوانمہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور جائے وقوعہ پر اضافی نفری روانہ کر کے کسی بھی شخص کو قریب آنے سے روک دیا۔ بعد ازاں بچوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسرائیلی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ بچے علاقے میں "عکوب” (ایک صحرائی پودا) چن رہے تھے کہ اس دوران یہ مشکوک دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جس سے وہ لہولہان ہو گئے۔ زخمی بچوں کے قابض اسرائیلی فوج کی تحویل میں ہونے کے باعث ان کی صحت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دستے حال ہی میں وادی اردن کی طرف روانہ ہوئے ہیں جہاں یہ اطلاع ملی تھی کہ فوجی مشقوں کے بعد بچ جانے والے بارودی مواد سے کھیلتے ہوئے تین فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ فوجی تربیتی علاقہ ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے اور یہاں داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے، نیز واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی فوج بارودی مواد
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔