ای چالان نظام کے خلاف درخواست پر سندھ ہائی کورٹ میں سماعت، ڈی آئی جی ٹریفک کا جواب جمع
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ڈی آئی جی ٹریفک نے سندھ ہائی کورٹ میں شہر میں ای چالان نظام سے متعلق تحریری جواب جمع کروا دیا ہے۔
جواب میں بتایا گیا کہ ای چالان نظام تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فیز ون صرف مکمل انفرااسٹرکچر والی سڑکوں پر نافذ ہے جبکہ زیرتعمیر سڑکیں ای چالان سسٹم میں شامل نہیں کی گئیں۔ 14 روز میں چالان ادا کرنے پر 50 فیصد رعایت دی جا رہی ہے اور جرمانوں میں ترمیم سندھ حکومت کی جانب سے کی گئی، ٹریفک پولیس کا اس میں کوئی کردار نہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ای چالان نظام شفاف اور قانونی دائرے میں ہے اور ای چالان سے متعلق کسی بھی تنازع کی صورت میں ٹریفک کورٹس سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ای چالان کے خلاف درخواستوں پر سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چالان نظام
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔