بھارتی طالب علموں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ملک میں طالب علموں کی خودکشی میں اضافہ ہو رہا ہے اور سالانہ 10,000 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں طالب علموں میں خودکشی کا رحجان روز بروز بڑھ رہا ہے جہاں سالانہ خودکشی کے 10ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تازہ ترین واقعے میں بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست ہریانہ میں کمپیوٹر انجینئرنگ کے ایک 19 سالہ طالب علم نے اپنی جان لے لی۔ بھارتی پولیس نے بتایا کہ خودکشی کرنے والے طالب علم کی شناخت انگود شیوا کے نام سے ہوئی ہے جو ضلع کروکشیتر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) میں اپنے ہاسٹل کے کمرے میں چھت کے پنکھے سے لٹکا ہوا پایا گیا۔ وہ پہلے سمسٹر کا طالب علم تھا جو کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ (CSE) میں ڈگری حاصل کر رہا تھا اور کیمپس میں ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے کوئی خودکشی نوٹ نہیں ملا۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ملک میں طالب علموں کی خودکشی میں اضافہ ہو رہا ہے اور سالانہ 10,000 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔مہاراشٹر،تامل ناڈو اور مدھیہ پردیش میں طلباء کی خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات رپوٹ ہوتے ہیں جہاں سب سے زیادہ تعداد 15سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ہوتی ہے۔ اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں بہت زیادہ تعلیمی دبائو، امتحان میں ناکامی اور دماغی صحت کے مسائل شامل ہیں۔
بھارت میں نوجوانوں کی خودکشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جہاں خودکشی کرنے والے 35%نوجوانوں کی عمریں 15سے24 سال ہوتی ہے۔اعداد و شمار سے طلباء کی خودکشیوں میں مسلسل اضافہ ظاہر ہوتا ہے جو 2016ء میں 9,478 واقعات سے بڑھ کر 2018ء میں 10,159 واقعات تک پہنچ گئے۔ ریاست مہاراشٹر میں طالب علموں کی خودکشیوں کی سب سے زیادہ تعداد (1,834) ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش اور تامل ناڈو کا نمبر آتا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 1995ء سے 2019ء تک بھارت میں 170,000 سے زائد طلباء نے خودکشی کی وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں۔ اس سے ایک نظامی بحران کی عکاسی ہوتی ہے۔ ممتاز اداروں میں محدود نشستوں کے لیے سخت مقابلہ، اعلیٰ امتحانات اور تنائو، اضطراب اور ڈپریشن کا سامنا کرنے والے طلباء کے لیے ناکافی سپورٹ سسٹم خودکشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں طالب علموں سب سے زیادہ کی خودکشی کرنے والے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔