Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:41:14 GMT

افطار میں پکوڑے کھانے کا رواج کہاں سے آیا؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

افطار میں پکوڑے کھانے کا رواج کہاں سے آیا؟

رمضان المبارک میں افطاری کے دسترخوان پر پکوڑوں کی موجودگی ایک ایسی روایت ہے جو جنوبی ایشیا (پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش) کی ثقافت کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ پکوڑوں کے بنا افطار ادھوری لگتی ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آخر افطار میں پکوڑے کھانے کی روایت آئی کہاں سے ہے؟

برصغیر ایک زرعی خطہ ہے جہاں چنے کی کاشت کثرت سے ہوتی ہے۔ بیسن سستا اور ہر گھر میں دستیاب ہوتا تھا، اس لیے غریب اور متوسط طبقے کے لیے افطار میں پکوڑے بنانا ایک آسان اور کم خرچ حل تھا۔

قدیم ہندوستان میں بیسن اور سبزیوں کو ملا کر تلنے کا رواج صدیوں سے موجود تھا۔ مغل دور میں جب دسترخوان وسیع ہوئے تو تلی ہوئی چیزوں کو خاص اہمیت ملی، کیونکہ یہ اشرافیہ اور عوام دونوں میں یکساں مقبول تھیں۔

پکوڑا بنیادی طور پر برصغیر کی قدیم غذا ہے۔ قدیم ہندی اور سنسکرت متون میں بھی تلی ہوئی اشیاء کا ذکر ملتا ہے۔

ماہرین خوراک کی تاریخ کے مطابق سنسکرت کے قدیم متن ’مانسولاسا‘ (12ویں صدی) میں بیسن سے بنی تلی ہوئی اشیا کا ذکر موجود ہے، جو آج کے پکوڑوں سے مشابہ سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح ’بھوجن کتہال‘ اور دیگر قدیم ہندوستانی دستاویزات میں دال یا آٹے کے آمیزے کو تیل میں تلنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔

مغلیہ دور میں تلے ہوئے پکوانوں کو مزید فروغ ملا۔ تاریخی کتاب ’آئینِ اکبری‘ از ابوالفضل (16ویں صدی) میں شاہی دسترخوان پر پیش کیے جانے والے مختلف تلے ہوئے کھانوں کا ذکر ملتا ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ’پکوڑا‘ براہِ راست درج نہیں، لیکن بیسن اور مسالوں سے بنی تلی ہوئی اشیا کا ذکر اس روایت کی قدامت کو ظاہر کرتا ہے۔

تاریخی حوالوں کی بات کی جائے تو مختلف کتابوں میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ کتاب ’اُردو لغت‘ اور ’تاریخِ ہند‘ میں پکوڑے کو برصغیر کی مقامی ایجاد بتایا گیا ہے۔

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب دہلی اور لکھنؤ کی تہذیب عروج پر تھی، تو وہاں کے بازاروں میں رمضان کے دوران پکوڑوں کے سٹالز لگنے کا ذکر ملتا ہے۔

خوراک کے مؤرخ ’کے ٹی اچایا‘ اپنی کتاب ’اے ہسٹوریکل ڈکشنری آف انڈین فوڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ بیسن کی تلی ہوئی اشیاء (جیسے پکوڑا اور وڑا) قدیم دور سے ہی اس خطے کی غذا کا حصہ رہی ہیں۔ مسلمانوں نے ان میں مسالوں اور مختلف سبزیوں کا اضافہ کر کے اسے افطار کی روایت بنایا، اور اس کے کچھ طبی فوائد بھی ہیں۔

روزے کے دوران جسم میں شوگر لیول کم ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ خوراک کے مطابق بیسن (چنے کا آٹا) پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور جب اسے تیل میں تلا جاتا ہے تو یہ کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی کا ایک ایسا مجموعہ بن جاتا ہے جو افطار کے وقت جسم کو فوری طور پر توانائی فراہم کرتا ہے۔ لیکن کھ ماہرین غذائیت اس کی زیادتی کو نقصان دہ بھی قرار دیتے ہیں۔

لیکن جنوبی ایشیا کے برعکس عرب ممالک میں افطاری پر پکوڑے عام نہیں۔ وہاں روایتی طور پر کھجور اور پانی سے روزہ افطار کرنے کے بعد شوربہ یا ہلکا کھانا کھایا جاتا ہے۔

اسلامی روایات میں بھی کھجور سے افطار کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ احادیث کی کتب ’سنن ابوداؤد‘ اور ’جامع ترمذی‘ میں نبی کریم ﷺ کے کھجور اور پانی سے افطار کرنے کا ذکر ملتا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ پکوڑے کھانے کا رواج کسی ایک واقعے سے شروع نہیں ہوا بلکہ یہ برصغیر کی قدیم روایت اور ضرورت کا ملاپ ہے۔ بیسن کی غذائیت، کم قیمت اور لذیذ ذائقے نے اسے رمضان کا مستقل ساتھی بنا دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا ذکر ملتا ہے جاتا ہے

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن