کراچی: پسندیدہ موٹر رجسٹریشن نمبر فیس 20 لاکھ روپے تک
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
کراچی: پسندیدہ موٹر رجسٹریشن نمبر فیس 20 لاکھ روپے تک مقرر کر دی گئی ۔صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ وہ گاڑی مالکان جو اس وقت اپنے پسندیدہ موٹر رجسٹریشن نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ منظور شدہ رقم دے کر حاصل کر سکتے ہیں جس کی حد 20 لاکھ روپے تک ہے۔ جو رقم وصول کرنا طے پایا ہے اس کے مطابق 786 اور 110 رجسٹریشن نمبر حاصل کرنے والے کو 20 لاکھ ادا کرنے ہوں گے۔ تین ہندسوں والے 111 سے999 نو رجسٹریشن نمبروں کی پلیٹس فیس 10 لاکھ روپےفی نمبر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح تین عدسوں والے 100 سے 900 کی نو نمبر پلیٹس حاصل کرنے والوں سے پانچ لاکھ روپے فیس وصول کی جائے گی 001 سے 009 کے نو نمبر پلیٹس حاصل کرنے والوں کو بھی پانچ لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔ ان کے علاوہ باقی چوائس کے نمبروں کو حاصل کرنے کے لیے تین لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لاکھ روپے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔