فائل فوٹو

 سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔

 دورانِ سماعت کمرۂ عدالت میں دلچسپ صورتِ حال اس وقت پیدا ہو گئی، جب جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ذہن میں رکھیں کل پہلا روزہ ہے اور بینچ میں 2 پٹھان ججز موجود ہیں۔

 لطیف کھوسہ نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں بانئ پی ٹی آئی کی 3 سال سزا معطل ہوئی، لیکن فیصلہ معطل نہیں ہوا ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ یہ بات سمجھ نہیں آ رہی، سزا معطل ہونے کے بعد تو فیصلہ بھی معطل ہوتا ہے، آپ ذرا ہائی کورٹ کا متعلقہ حکم نامہ تو پڑھیں۔

بانئ پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے کا متعلقہ پیراگراف پڑھا۔

توشہ خانہ کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر گزشتہ روز ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ لطیف کھوسہ صاحب آپ نے تو ہائی کورٹ سے صرف سزا معطلی کی استدعا کی تھی، آپ نے جو ریلیف مانگا عدالت نے دے دیا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کے 2019ء کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں اس کا پیرا گراف نمبر 13 پڑھیں، اس فیصلے میں تو سزا اور فیصلہ دونوں معطل ہوئے تھے، لطیف کھوسہ صاحب آپ اپنے ہی خلاف عدالتی فیصلہ لے کر آ گئے ہیں، لگتا ہے آپ کی عینک کمزور ہو چکی ہے، آپ کو راستہ دے رہے تھے کہ الیکشن کمیشن کو سن لیتے ہیں، آپ نے اپنے خلاف جو عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا ہے اسے ہم پی جاتے ہیں، چلیں خیر ہے کوئی بات نہیں، ہم یوں سمجھ لیتے ہیں جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا وہ ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، ویسے بھی ایک دو ماہ میں کون سے الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تو ہے، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہمارے سامنے ایک جیتا جاگتا بڑا سا چیئرمین پی ٹی آئی بیٹھا ہوا ہے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: جسٹس ہاشم کاکڑ نے الیکشن کمیشن کو لطیف کھوسہ نے توشہ خانہ کیس ہائی کورٹ پی ٹی آئی نے کہا کہ فیصلے کا کورٹ کے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری