تقریب سے خطاب میں علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی اور علامہ رضی جعفر نقوی نے کہا کہ عزاداری ہماری عبادت ہے اور مودّتِ اہلِ بیتؑ ایمان کا لازمی جزو ہے، رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ تزکیہ نفس، تقویٰ اور خود احتسابی کا درس دیتا ہے، پاکستانی شیعہ قوم باطل قوتوں کے خلاف ہمیشہ میدان عمل میں موجودرہے گی۔ اسلام ٹائمز۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے زیرِ اہتمام ”تعزیتی ریفرنس برائے شہدائے جامع مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ ترلائی و آمد رمضان“ کے عنوان سے نشتر پارک میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں علامہ نثار احمد قلندری، علامہ باقر حسین زیدی، سید شبر رضا، سید ریاض الحسن، علامہ مبشر حسن، سرور علی، علامہ صادق جعفری، علامہ مرزا طاہر علی حبیب، غیور عباس، احسن مہدی، علامہ رجب علی بنگش، ایس ایم نقی، علامہ حیات عباس نجفی سمیت علمائے کرام، ذاکرین عظام، مساجد و امام بارگاہوں کے ٹرسٹیز، بانیان مجالس و جلوس، شیعہ تنظیموں کے نمائندگان اور ملتِ جعفریہ کی نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے موقع پر جعفریہ الائنس کراچی کے نومنتخب کوآرڈینیٹرز اور ڈپٹی کوآرڈینیٹرز سمیت والنٹیئرز کے ذمہ داران سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے حلف لیا۔

اپنے خطاب میں جعفریہ الائنس پاکستان کے صدر و ممتاز عالمِ دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خودکش حملے وطنِ عزیز کی سالمیت اور اس کی نظریاتی و قومی ساخت کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی سازش ہیں، جسے قومی اتحاد اور بیداری کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ہم پہلے بھی قربانیاں دے چکے ہیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے سانحہ ترلائی کے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ابھی ختم نہیں ہوا، مگر ظلم و ستم کے باوجود ہمارے دلوں سے پاکستان کی محبت ختم نہیں کی جا سکتی، یہ ملک سنی و شیعہ سب نے مل کر بنایا ہے اور ہم اسے اپنی ماں کی طرح عزیز رکھتے ہیں، ہم پاکستانی بھی ہیں اور حسینی بھی، عزاداری ہماری عبادت ہے اور مودّتِ اہلِ بیتؑ ایمان کا لازمی جزو ہے۔

رمضان المبارک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بابرکت مہینہ تزکیہ نفس، تقویٰ اور خود احتسابی کا درس دیتا ہے، علما و مشائخ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ماہ میں صبر، اخوت، اتحادِ امت اور باہمی رواداری کا پیغام عام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان ہمیں ایثار اور خدمتِ خلق کا عملی سبق دیتا ہے، لہٰذا مستحقین کی مدد اور فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرپرست جعفریہ الائنس پاکستان علامہ سید رضی جعفر نقوی نے کہا کہ ہم اہلِ بیتؑ کی تعلیمات اور محبت کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں اور امام حسینؑ کے چاہنے والوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قوانین کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ عباس کمیلی اور ان کے رفقا نے مل کر جعفریہ الائنس پاکستان کا پلیٹ فارم قائم کیا تاکہ ملتِ جعفریہ کو متحد کیا جا سکے، یہ سفر کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور اللہ کی مدد کے ساتھ آئندہ بھی جاری رہے گا، پاکستانی شیعہ قوم باطل قوتوں کے خلاف ہمیشہ میدان عمل میں موجودرہے گی، آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ محمد ؐ و آل محمد ؑ کے چاہنے والے ہی ہر محاذ پر باطل سے برسرپیکار ہیں، ملت جعفریہ پاکستان اپنی وحدت سے عالمی استکبار کی تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جعفریہ الائنس پاکستان انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نقوی نے ہے اور

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل