Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:48:39 GMT

وفاقی وزیر داخلہ کا آبپارہ میں رمضان سہولت بازار کا دورہ

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

وفاقی وزیر داخلہ کا آبپارہ میں رمضان سہولت بازار کا دورہ

 

اسلام آباد: (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جی سکس آبپارہ میں قائم کیش لیس رمضان سہولت بازار کا دورہ کیا۔

وزیر داخلہ نے سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کے سٹالز کا معائنہ کیا اور قیمتوں و معیار کا جائزہ لیا۔ محسن نقوی نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ریٹ لسٹ نمایاں طور پر آویزاں کی جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ بازار ریٹ اور سٹال ریٹ کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے رمضان بازاروں میں صفائی اور سکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے مختلف سٹالز کا دورہ کیا، شہریوں سے ملاقات کی اور معیار و قیمتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ بعض شہریوں نے ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت بھی کی۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے رمضان سہولت بازار کے انتظامات پر بریفنگ دی۔ رمضان بازار صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک کھلا رہے گا اور منڈی ریٹ کے مطابق اشیاء کی فروخت یقینی بنانے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ میکانزم فعال کیا گیا ہے۔

اس موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ڈی جی انفورسمنٹ، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ وزیر داخلہ نے عوامی ریلیف میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار