رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں شروع
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پشاور میں شروع ہوگیا، جس کی صدارت چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کررہے ہیں۔
مولانا عبدالخبیر آزاد کے مطابق زونل رویت ہلال کمیٹیاں لاہور، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد میں الگ الگ اجلاس منعقد کریں گی۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت نے رمضان المبارک 2026 کے لیے دفتری اوقات کا اعلان کردیا
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حالیہ سالوں میں رمضان کا آغاز ایک ہی دن ہوتا رہا ہے، اور انشااللہ اس بار بھی یہی صورت حال متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، محکمہ موسمیات اور سپارکو بھی رویت ہلال کمیٹی کا حصہ ہیں اور چاند دیکھنے میں معاونت فراہم کریں گے۔
سپارکو کے مطابق رمضان المبارک کا چاند آج نظر آنے کا قوی امکان ہے، جس کے باعث 19 فروری کو پاکستان میں پہلا روزہ ہونے کا امکان ہے۔
’غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر قریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہوگی۔ ساحلی علاقوں میں سورج غروب ہونے اور چاند غروب ہونے کے درمیان قریباً 59 منٹ کا فرق ہوگا، جس سے آنکھ سے چاند دیکھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔‘
مزید پڑھیں: ماہِ رمضان میں سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس کو وائرل بنانے کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟
واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں گزشتہ روز چاند نظر آگیا تھا، جس کے مطابق آج وہاں پر پہلا روزہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اجلاس شروع رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اجلاس شروع رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر ا زاد وی نیوز رویت ہلال کمیٹی رمضان المبارک چاند دیکھنے کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔