اسلام ٹائمز: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے لوگو تم پر عظیم مہینہ سائیہ افگن ہو رہا ہے، مبارک مہینہ، ایسا مہینہ کہ اس میں ایک رات ہے، جو ہزار ماہ سے افضل ہے۔ اللہ نے اس کے روزے فرض اور اس کی راتوں کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔ جس نے اس میں ایک بھلائی کا کام کیا تو گویا اس نے غیر رمضان میں ایک فرض ادا کیا اور جس نے اس ماہ میں ایک فرض ادا کیا تو گویا اس نے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے۔ یہ غم خواری کا مہینہ ہے، یہ وہ مہینہ ہے، جس میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جس نے اس میں روزے دار کو روزہ افطار کرایا تو یہ اسکے گناہوں سے معافی اور جہنم سے آزادی کا سبب ہوگا اور روزے دار جتنا ثواب ملے گا، روزے دار کے ثواب میں کمی کیے بغیر۔" تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بے حد و حساب شکر ہے کہ اس نے ایک دفعہ پھر اپنی عظیم برکتوں اور سعادتوں سے مامور ماہ مکرم ہمیں عطا فرمایا۔ اس کی رحمتیں برسنے کو ہیں اور ہم ان برکتوں کو سمیٹنے کے لیے تیار ہیں۔ اس پرنور مہینے کو خدائے بزرگ و برتر نے بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے۔ اس کی بابرکت سعادتوں میں ادا کیے جانے والے نوافل کو ثواب و اجر میں فرائض کا ہم سر قرار دیا ہے۔ اس مکرم ماہ کی عظمت کے کیا کہنے، جسے نبیوں کے تاجدار ؐ نے"شھر عظیم" اور "شھر مبارک" قرار دیا ہو۔اس عظیم مہینے میں جنت کے دروازے گنہگاروں کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ اس مہینے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لازاوال محبتوں کا سلسلہ جڑا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تیاریاں شعبان المعظم میں ہی شروع فرمادیتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان المعظم میں کثرت سے روزے رکھتے تھے بلکہ جیسے ماہ رجب کا چاند طلوع ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں رمضان کی قربت کا احساس بیدار ہو جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے: "اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان، وبارک لنا فی رمضان" (ابو نعیم،حلیۃ الاولیاء، 6،269) "اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتوں کا نزول فرما اور رمضان میں بھی برکتیں عطا فرما۔" آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعبان المعظم میں کثرت سے روزے رکھنا اور تلاوت قرآن مجید کرنا استقبال رمضان کی تیاری ہوا کرتی تھی۔ آپ ؐ اس ماہ مکرم کو روزوں کی کثرت اور قرآن مجید کی تلاوت کی کثرت کے ساتھ خوش آمدید کہا کرتے تھے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک دفعہ سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے تین دفعہ یہ سوال دہرا کر پوچھا: "ما ذا یستقبلکم وتستقبلون؟"، "تمہارا کون استقبال کر رہا ہے اور تم کس کا استقبال کرنے جا رہے ہو۔؟" اس پر حضرت عمر فاروق ؓ نے عرض کی: کیا وحی اترنے والی ہے؟ فرمایا "نہیں" عرض کی کیا ہم کسی دشمن سے برسر پیکار ہونے جا رہے ہیں؟ فرمایا "نہیں" عرض کی پھر کیا بات ہے؟ فرمایا: "ان اللہ یغفر فی اول لیلۃ من شھر رمضان لکل اھل القبلۃ۔" (الترغیب والترھیب 2،4،6، الرقم: 1502) ترجمہ: "بے شک اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی پہلی رات میں ہر اہل قبلہ کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔"
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓروایت کرتی ہیں کہ میں نے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے روزوں کے، جو رمضان کے ساتھ مل جاتے تھے۔ (نسائی، السنن، کتاب الصیام، رقم:2175) آپ ؐکی سیرت کی پیروی کے کامل نمونہ جات صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی شعبان سے ہی قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے شروع کر دیا کرتے تھے اور اموال کی زکوٰۃ بھی شعبان میں ہی نکال دیتے تھے، تاکہ غرباء و مساکین کی مدد ہو اور وہ رمضان آسانی سے گزار سکیں۔ حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں "کان المسلمون اِذا دخل شعبان أ کبّوا علی المصاحف فقرؤ وھا واخرجو زکوٰۃ اموالھم تقویۃً للضعیف والمسکین علی صیام رمضان" (لطائف المعارف، ابن رجب حنبلی، الرقم:2581) امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں حضرت سعید ابن مسیب کی روایت ذکر کی ہے، جو انہوں نے حضرت سلمان فارسی ؓسے روایت کی ہے۔
حضرت سلمان روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان معظم کے آخری دن ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے لوگو تم پر عظیم مہینہ سائیہ افگن ہو رہا ہے، مبارک مہینہ، ایسا مہینہ کہ اس میں ایک رات ہے، جو ہزار ماہ سے افضل ہے۔ اللہ نے اس کے روزے فرض اور اس کی راتوں کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔ جس نے اس میں ایک بھلائی کا کام کیا تو گویا اس نے غیر رمضان میں ایک فرض ادا کیا اور جس نے اس ماہ میں ایک فرض ادا کیا تو گویا اس نے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے۔ یہ غم خواری کا مہینہ ہے، یہ وہ مہینہ ہے، جس میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جس نے اس میں روزے دار کو روزہ افطار کرایا تو یہ اسکے گناہوں سے معافی اور جہنم سے آزادی کا سبب ہوگا اور روزے دار جتنا ثواب ملے گا، روزے دار کے ثواب میں کمی کیے بغیر۔"
صحابہ نے عرض کی ہم سب کے پاس تو روزے دار کو افطار کرانے کی استطاعت نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "یہ ثواب اللہ اسے بھی عطا کر دے گا، جو روزے دار کو ایک کھجور، ایک پانی کا گھونٹ یا دودھ کے ایک گھونٹ پر روزہ افطار کرا دے۔" یہ وہ مہینہ ہے، جس کا اول (عشرہ) رحمت ہے، جس کا درمیان (عشرہ) مغفرت ہے اور آخری (عشرہ) جہنم سے آزادی کا ہے۔ جس نے اپنے مملوک کے بوجھ کو ہلکا کیا، اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا اور اسے آگ سے آزادی دے گا۔ چار چیزوں کی اس میں کثرت کرو۔ دو چیزیں تمہارے رب کی رضا کا ذریعہ ہیں اور دو چیزیں تمہیں مستغنی کرنے والی ہیں۔ دو چیزیں جن سے تمہارا رب تم سے راضی ہوگا، وہ کلمہ طیبہ کا ورد اور کثرت استغفار ہے۔ بے پرواہ کرنے والی دو چیزیں اپنے رب سے حصول جنت کا سوال اور جہنم سے پناہ مانگنا۔ جو شخص اس ماہ میں روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا، اللہ اسے میرے حوض سے ایسا سیراب کرے گا کہ جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔(صحیح ابن خزیمہ،باب فی فضائل شھر رمضان: الرقم1887)۔
یہ حدیث اہل سنت کے محدثین کے علاوہ اہل تشیع کے علماء نے بھی ذکر کی ہے۔اہل تشیع کے ہاں یہ حدیث خطبہ شعبانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ ہمارے بعض محدثین نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور وجہ ضعف اس کی سند میں علی بن زید بن جرعان راوی ہیں، جن کے حافظہ پر جرح کی گئی ہے۔ لیکن یہ حدیث بیشتر محدثین نے روایت کی ہے۔ اس حدیث میں آپ نے تفصیل کے ساتھ رمضان شریف کی برکتوں اور عظمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اسے صبر اور غم خواری کا مہینہ قرار دیا گیا۔مؤمن کے رزق میں وسعت کا وعدہ کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے صوفیاء اور عرفاء نے اس مہینے کو صفائے قلب کے لیے بہت ہی زرخیز مہینہ قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ تنویر قلب کے لیے پورے سال میں اس سے بڑھ کر اور کوئی موقع انسان کو میسر نہیں آسکتا۔ یہ حق کے سا تھ تعاون اور بدی کے ساتھ عدم تعاون کا ماہ مبارک ہے۔ انسان کی باطنی صفائی کے لیے اس ماہ مکرم میں حالات نہایت ساز گار ہوتے ہیں۔
یہ مہینہ بحیثیت مسلم قوم متحد ہونے کا بھی بہت اعلیٰ موقع فراہم کرتا ہے۔ یاد رہے کہ قومیں اس وقت مضبوط و مستحکم ہوتی ہیں، جب وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ جب ان کے لیے عدل و انصاف کا حصول سہل ہو، جب حقوق و فرائض کے اصولوں پر مکمل طور پر عمل کیا جا رہا ہو اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے، جب تک ہم غربت کے مارے افراد کا خیال نہ رکھیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے، جب تک ہماری تمام توجہات کا مرکز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات نہ ہو جائے۔ جب یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے تو پھر انسان دنیا کی تمام تر چیزوں کو عارضی اور غیر مستقل سمجھتا ہے۔روزے کا سب سے بڑا مقصد اسی احساس کو اجا گر کرنا ہے۔ جب یہ احساس اپنے بلند مقام تک پہنچ جاتا ہے تو پھر قوم کے اندر استحکام پیدا ہوتا ہے۔
رمضان مبارک میں وقوع پذیر ہونے والے کچھ واقعات نے دنیا کے حالات اور تہذیب وثقافت کو بہت متاثر کیا ہے بلکہ یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ (1) پہلا واقعہ نزول قرآن کا ہے۔ اگر ہم نزول قرآن سے پہلے کی دنیا کا جائزہ لیں اور نزول قرآن کے بعد کی دنیا کا اس سے موازنہ کریں تو دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ قرآن نے انسان کی تاریک دنیا کو علم و عرفان کے ذریعے روشن کیا ہے۔ شرک جس نے انسانیت کو ہر مافوق الفطرت چیز کا غلام بنا رکھا تھا، اس سے نکال کر خدائے واحد کی عبادت کی طرف اس کی رہنمائی کی ہے۔ شرک کے نظام کو جڑوں سے اکھاڑ کر توحید کا خوبصورت نظریہ کامیابی کے ساتھ متعارف کرایا ہے۔ قرآن نے انسان کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی حالات پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ آسٹریا کے ایک معروف مصنف جناب محمد اسدنے لکھا ہے: The Quran has fundamentally affected the social, religious and political history of the world.
(2) دوسرا بڑا واقعہ رمضان المبارک میں لڑی جانے والی پہلی جنگ عظیم کا ہے، جو سرکار ؐکی سپہ سالاری میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں اہل ایمان نے ثابت کیا ہے کہ ہمیں اپنے رب کے مقابلہ میں کوئی نعمت محبوب نہیں ہے۔ ہمیں بے سرو سامانی تو منظور ہے، لیکن اس دھرتی پر اپنے رب کے نظام کے علاوہ کوئی دوسرا نظام منظور نہیں ہے۔ (3) تیسر بڑا واقعہ فتح مکہ کا ہے۔ جو اس بات کی نوید اور عظیم خوش خبری ہے کہ اہل اخلاص دنیا میں ہمیشہ سر خرو ہوتے ہیں، وقتی محرومیاں ان کے جذبات کو ٹھنڈا نہیں کرسکتیں۔ فتح مکہ نے اللہ کے گھر کو بتوں سے پاک کرکے اس بات کا اعلان کیا کہ یہ ابتداء ہے، پوری زمین کو جھوٹے خداؤں سے پاک کیا جائے گا اور توحید کی شمعیں چار دانگ عالم میں بھی روشن ہونگی اللہ کا دین غالب ہوگا۔ رمضان المبارک بالکل ہمارے دروازے پر کھڑا ہے۔ ہمیں اسے خوش آمدید کہنا ہے، محبت کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ۔ ہمارا مطمع نظر اللہ کی رضا اور اس کے نبی کی خوشنودی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں ایک فرض ادا کیا روزے دار کو کا مہینہ ہے قرار دیا ہے اس میں ایک دو چیزیں کے ساتھ نہیں ہے جاتا ہے ہے اور صبر کا اس ماہ کے لیے عرض کی گا اور اور اس کیا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔