کھیلوں سے بچوں کو صحتمند انہ ماحول میسر آتا ہے، عبداللطیف نظامانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جان اکیڈمی اسکول سسٹم کے زیر اہتمام سالانہ تقریب ’’اسپورٹس ڈے‘‘ کا انعقاد، تقریب میں کرائے جمپنگ ، پی ٹی ، دوڑ قومی نغموں پر فارمینس ، تفریحی مقابلے ، مختلف انواع واقسام کے کھانوں کے اسٹال ، مقابلوں میں شریک طلباء و طالبات میں انعامات کی تقسیم اور والدین کی کثیرتعداد میں شرکت نے سالانہ اسپورٹس ڈے کو یادگار بنادیا۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے نیاز اسٹیڈیم سے متصل شہید صوبائی چیئرمین واپڈا سی بی اے یونین امید علی قائمخانی سے منسوب واپڈا اسپورٹس گرائونڈ میں تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے اسکول کے ڈائریکٹر علی نذیر جان میمن اور پرنسپل علی زہرہ جان اور انکی پوری ٹیم کرائے ماسٹر حسن علی پیرزادہ ، شاہد سومرو ، فیصل رحیم میمن اور اساتذہ کو خوبصورت تقریب کے انعقاد پر یونین کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے اچھا اور صحت مندانہ اقدام قرار دیا اس عمل سے جہاں بچوں کو صحت مندانہ ماحول میسر آتا ہے وہیں نظم و ضبط ، اتحاد و یگانت کا درس بھی ملتا ہے ۔ تقریب کے دیگر معزز مہمانان میں اسسٹنٹ کمشنر ریونیو علیزہ طارق ، سندھ وہند کی نامور شاعرہ ادیب و کالم نگار آپا نذیر ناز ، پی پی پی کے ضلعی صدر اظہر سیال ، بانی وومن چچمبرز آف کامرس حیدرآباد بینش افتخار قادری ، واپڈا یونین کے صوبائی سیکریٹری اقبال احمد خان ، محمد حنیف خان شامل تھے ۔ اسکول کے ڈائریکٹر علی نذیر جان میمن نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں لنگی اور اجرک کے تحائف بھی پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارا اسکول گذشتہ سات سالوں سے قاسم آباد میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے اور ہم ہر سال اسی طرح کی تقریب اپنے بچوں کیلئے متواتر کرتے چلے آرہے ہیں جس میں بچوں کے والدین کو بھی مدعو کیا جاتا ہے ہماری کوشش ہے کہ بچوں کو علم کے ساتھ ساتھ جسمانی تفریحی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کو بھی فروغ دیں ہم نے یہاں ثقافتی اور کھانے پینے کے بھی اسٹال لگائے ہیں اور جن بچوں نے نمایاں کارکردگی دی ہے ہم انہیں انعامات بھی دیتے ہیں تاکہ انکی حوصلہ افزائی ہوسکے انہوں نے تقریب میں شریک تمام معززمہمانان کی آمد پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ