رمضان میں عوام کوزیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیاجائے، ڈپٹی کمشنر نواب شاہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ (جسارت نیوز) کمشنر شہید بینظیرآباد ڈویژن شہمیر خان بھٹو نے ماہِ صیام کے دوران عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے سلسلے میں کمشنر آفیس کے کمیٹی روم میں صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈویژنل و تینوں اضلاع کی ضلعی انتظامیہ رمضان المبارک میں مہنگائی پر قابو پانے، اشیائے خوردونوش کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ نرخوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈویڑن کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پرائس کنٹرول نظام کو مزید مؤثر بنائیں اور اسسٹنٹ کمشنرز و مختیارکار حضرات روزانہ کی بنیاد پر سبزی و فروٹ منڈیوں، کریانہ اسٹورز، آٹا چکیوں اور ہول سیل مارکیٹس کا معائنہ کریں مقررہ نرخوں سے تجاوز، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور کم تولنے کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے اور دکانوں کی سیلنگ سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈویڑن میں تاجروں کے تعاون سے 31 منی بچت بازاریں لگائی جائیں گے جبکہ شکایات کے ازالے کے لیے 16 شکایتی سیل بھی قائم کئے جائیں گے کمشنر شہمیر خان بھٹو نے مزید کہا کہ عوامی سہولت کے پیش نظر مختلف مارکیٹوں میں دکانوں کو رمضان بازاروں اور خصوصی سیل پوائنٹس کے قیام کو یقینی بنایا جا رہا ہے جہاں آٹا، چینی، گھی، دالیں، چاول، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء مناسب نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔