غزہ: اسرائیلی فوجی نے ساتھی اہلکار کو دشمن سمجھ کر گولیوں سے بھون ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260219-01-20
غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں حماس کے خلاف ملٹری آپریشن کے لیے جانے والی اسرائیلی فوج کی 2 ٹیموں کے درمیان رات کے اندھیرے کے باعث آپس میں ہی مڈبھیڑ ہوگئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ رات گئے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے قریب ’یلو لائن‘ کے علاقے میں پیش آیا۔ اس دوران ایک ٹیم کے اہلکار نے سامنے سے آنے والی ایک اور ٹیم کو رات کی تاریکی کی وجہ سے دشمن کے حملہ آور سمجھا اور گولی چلادی۔ اسرائیلی فوجی کے اہلکار کی فائرنگ سے دوسری ٹیم کا ساتھی اہلکار اسٹاف سارجنٹ 21 سالہ اوفری یافے شدید زخمی ہوا‘ اوفری یافے کو شدید زخمی حالت میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ دوران علاج چل بسا۔ اسرائیلی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں مسلمان پہلی تراویح کی ادائیگی کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچ گئے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جیسے ہی رمضان المبارک کے چاند کا اعلان کیا گیا تو فرزندان اسلام کے قدم خود بخود قبل اول کی جانب بڑھنے لگے۔ ماہِ رمضان المبارک کے پہلے ہی روز مسجد اقصیٰ پر غاصب صیہونی آبادکاروں کے دھاووں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی جہاں انہوں نے قبلہ اول میں تلمودی رسومات ادا کیں اور اشتعال انگیز حرکات کیں۔ دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے رمضان کے دوران قابض حکام کی جانب سے آبادکاروں کے لیے حملوں کے دورانیے میں ایک گھنٹے کے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مقام پر بدھ کے روز اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شہید ہو گیا جبکہ رمضان المبارک کے پہلے دن کے آغاز پر ہی قابض دشمن نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر فضائی، زمینی اور بحری حملوں کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ فاشسٹ صہیونی ریاست کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کے جرائم میں تیزی لانا دراصل فلسطینی وجود کو نشانہ بنانے کی ایک منظم سازش ہے، جس کی تازہ ترین مثال الخلیل شہر کے جنوب میں ایک آباد رہائشی عمارت کی مسماری ہے۔حماس نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے ایک پریس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ جارحانہ پالیسیاں ہمارے عوام کے اپنی زمین اور وطن سے لگاؤ میں مزید اضافے کا باعث بنیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔