data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے گرد سکیورٹی اقدامات میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے مسجد کے امام شیخ محمد العباسی کو حراست میں لے لیا، جس پر فلسطینی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب عبادات کی ادائیگی کے لیے آنے والے نمازیوں پر پہلے ہی مختلف پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کی شام اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں کارروائی کرتے ہوئے امام مسجد کو حراست میں لیا، تاہم گرفتاری کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے اچانک کارروائی کی اور شیخ محمد العباسی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے رمضان کے پیش نظر مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں سخت سکیورٹی انتظامات نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ نمازیوں کی آمد و رفت پر بھی نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ بعض مذہبی شخصیات کے خلاف محدود مدت کے لیے مسجد میں داخلے پر پابندی کے احکامات جاری کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے فلسطینی قیادت مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دے رہی ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے امام مسجد کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ شیخ محمد العباسی کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے کے احکامات دراصل مقدس مقام کے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت ہیں، جو خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا مؤقف ہے کہ رمضان کے دوران کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مسجد اقصیٰ کے اطراف سکیورٹی سخت کی جا رہی ہے۔ تاہم فلسطینی حکام نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر نمازیوں کی رسائی محدود کر کے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہا ہے اور حالات کو کشیدہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور مشرقی یروشلم میں واقع ہے، جس پر 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ طے شدہ انتظامات کے تحت یہودی زائرین کو احاطے میں داخلے کی اجازت تو حاصل ہے، تاہم وہاں عبادت کی اجازت نہیں، مگر اس کے باوجود وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات سامنے آتے رہتے ہیں جو علاقے میں شدید تناؤ کا سبب بنتے ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار