عازمین حج کو معیاری سہولیات فراہم کی جائیں گے، وزیر مذہبی امور سردار یوسف، خدام الحجاج میں سرٹیفکیٹس تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے حج 2026 کے لیے منتخب خدام الحجاج کی اعلیٰ معیار کی تربیت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس سال عازمین حج کو کھانے پینے، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی یکساں اور معیاری سہولیات فراہم کرے گی۔
بدھ کو حج کمپلیکس اسلام آباد میں حج 2026 کے لیے مسابقتی عمل کے ذریعے کامیاب قرار پانے والے خدام الحجاج کی 10 روزہ تربیت کی تکمیل پر سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تربیت یافتہ خدام الحجاج سعودی قوانین کے مطابق نظم و ضبط برقرار رکھنے اور ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
مزید پڑھیں: وزارتِ مذہبی امور کا عازمین حج کے لیے سعودی ویزا بائیو میٹرک کی تاریخ میں توسیع کا اعلان
اس موقع پر وزارت مذہبی امور کے سی ایف او و کوآرڈینیٹر خدام الحجاج ذوالفقار خان، ڈائریکٹر حج کمپلیکس اسلام آباد قاضی سمیع الرحمان سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قریباً 38 ہزار امیدواروں میں سے 800 خواتین و حضرات کو خدام الحجاج بننے کا موقع ملا ہے جو ایک اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ڈیوٹی نہیں بلکہ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا عظیم موقع ہے، جس کے ساتھ عمرہ اور نمازوں کی سعادت بھی نصیب ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ جس طرح سعودی فرمانروا اپنے لیے خادم الحرمین الشریفین کا لقب باعث فخر سمجھتے ہیں، اسی طرح حجاج کی خدمت دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزارت مذہبی امور کا ریکارڈ ہمیشہ شاندار رہا ہے۔ 2013 سے 2018 کے دوران پانچ معیاری حج کرائے گئے جبکہ گزشتہ برس بہترین کارکردگی پر سعودی وزارت حج کی جانب سے ’ایکسی لینسی ایوارڈ‘ دیا گیا اور وزیراعظم پاکستان کی طرف سے بھی تعریفی شیلڈ دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ وزارت کی کامیابی کا اصل معیار حجاج کا مثبت فیڈ بیک ہے۔ اس سال خواتین عازمین کی بہتر معاونت کے لیے فی میل اسٹاف کی تعداد 45 سے بڑھا کر 85 کر دی گئی ہے۔
سی ایف او و کوآرڈینیٹر خدام الحجاج ذوالفقار خان نے کہاکہ 2013 سے 2018 کے دوران ہونے والے حج کامیاب رہے اور حج 2026 کے لیے مزید بہتر تیاریوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی حکومت کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے این ٹی ایس ٹیسٹ کے ذریعے منتخب خدام الحجاج کو جدید ماڈیولز کے تحت تربیت فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ تربیت کے دوسرے مرحلے میں خدام الحجاج کو اسپیشلائزڈ ٹریننگ بھی دی جائے گی تاکہ سعودی عرب روانگی سے قبل تمام افراد اپنی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہوں اور وہاں پہنچتے ہی فرائض سنبھال سکیں۔
مزید پڑھیں: حج 2025: متاثرہ عازمین حج کو رواں سال میں ایڈجسٹ کیا گیا یا مکمل رقم واپس کردی گئی
’اس مرتبہ ناظمین کو پاکستان سے ہی عازمین کے ہمراہ بھیجا جائے گا جو حج کے تمام مراحل میں ان کے ساتھ رہیں گے اور واپسی پر بھی اسی دستے کے ہمراہ پاکستان پہنچیں گے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews خدام الحجاج سردار یوسف وزیر مذہبی امور وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خدام الحجاج سردار یوسف وی نیوز انہوں نے کہاکہ خدام الحجاج کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔