data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے کہا ہے کہ موجودہ ہاکی مینجمنٹ کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے کئی وعدے توڑے اور ان سے جھوٹ بولا۔

ٹیم کی آسٹریلیا سے وطن واپسی پر لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عماد بٹ نے کہا کہ ٹیم کو غیر ملکی کوچ کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپانسر تلاش کرنا پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کام ہے، نہ کہ کھلاڑیوں کا۔

عماد بٹ نے مزید کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کوڈ آف کنڈکٹ کام نہیں آتا، اور کھلاڑی صبح اُٹھ کر کچن اور برتن صاف کرنے کے بعد کیسے بہترین کھیل پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔

کپتان نے کہا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے، مگر کھلاڑیوں سے کہا جاتا ہے کہ باہر کوئی بات نہیں کریں، ورنہ پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

دوسرے کھلاڑیوں نے بھی شکایت کی کہ آسٹریلیا میں انہیں سڑکوں پر رہنا پڑا اور ٹیم کا مورال شدید متاثر ہوا۔

ڈی جی Pakistan Sports Board نورالصباح نے کہا کہ ہوٹل کی بکنگ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے کرائی تھی، لیکن ہاکی فیڈریشن نے اسے منسوخ کر دیا، جس کی ذمہ داری فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کی مکمل انکوائری وزیراعظم کو بھیجی جائے گی، اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بدانتظامی کا نوٹس لے رکھا ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا