اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے امام کو گرفتار کرلیا، حماس کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے رمضان سے قبل مسجد اقصیٰ کے امام کو گرفتار کر لیا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے پیر کی شام مسجد اقصیٰ کے صحن سے شیخ محمد العباسی کو حراست میں لیا، تاہم گرفتاری کی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب مسجد اقصیٰ میں سکیورٹی اقدامات سخت کیے جا رہے ہیں اور نمازیوں کے داخلے پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض مذہبی شخصیات پر پابندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیںغزہ میں بورڈ آف پیس ممالک کے ہزاروں فوجی اہلکار تعینات ہوں گے، ٹرمپ کا بڑا اعلان
غزہ فورس سے متعلق ٹرمپ کے اعلان پر پاکستان کی خاموشی
فلسطینی تنظیم حماس نے امام کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسجد میں داخلے سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام مسجد اقصیٰ کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
ادھر اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔ فلسطینی حکام نے اسرائیل پر مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نمازیوں کی رسائی محدود کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
مسجد اقصیٰ، جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، مشرقی یروشلم میں واقع ہے۔ یہ علاقہ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل کے قبضے میں آیا تھا۔ پرانے انتظامات کے تحت یہودی زائرین کو احاطے میں آنے کی اجازت ہے، تاہم وہاں عبادت کی اجازت نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز